انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 44

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات مقرر ہونا چاہئے کہ وہ اُس وقت کے اندر اندر یہان جلسہ گاہ میں آکر بیٹھ جائیں۔پھر اُنہیں جماعت وار بٹھایا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا تمام خدام حاضر ہیں۔اور زعیم اعلان کرے کہ میری مجلس کے سب خدام حاضر ہیں۔پھر وہ زعماء اس بات کے ذمہ دار ہونگے کہ ان کی مجالس کے ارکان اپنی اپنی جگہ پر بیٹھیں رہیں۔اگر کسی خادم کو کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے کہ وہ جانا چاہے تو وہ اپنے زعیم سے اجازت لے کر مجلس سے اُٹھے اور وہ زعیم اس بات کا ذمہ دار ہو کہ وقت پر بتائے کہ فلاں فلاں خادم میری اجازت سے باہر گئے ہیں۔دوسری بات میں لیکچراروں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جلدی جلدی اور زور کے ساتھ بولا جائے تو تقریر زیادہ مؤثر ہوتی ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے نہ جلدی جلدی بولنا تقریر کے اندر اثر پید کرتا ہے اور نہ زور سے بولنا تقریر کے اندر اثر پیدا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی تقریر میں بے موقع زور سے بولتا ہے تو تقریر کا اثر کم ہو جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ گلے سے اوپر بول رہا ہے دل سے نہیں بول رہا۔اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ پندرہ سولہ منٹ کے بعد ہی گویائی سے محروم ہو جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ لیکچرلکھا جو آریوں کی مجلس میں پڑھا گیا اور جس کے نتیجہ میں چشمہ معرفت کتاب لکھی گئی۔اُس وقت مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہو چکے تھے ان جیسی آواز والا جماعت میں اور کوئی شخص موجود نہ تھا اور یہ سوال در پیش تھا کہ یہ تقریر کون پڑھے۔تجویز یہ ہوئی کہ مقابلہ کر کے دیکھا جائے کہ کون شخص زیادہ موزوں ہے کہ اسے تقریر پڑھنے کیلئے کہا جائے۔مختلف لوگوں نے وہ تقریر پڑھی بڑے بڑے لوگوں میں سے حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تھے۔ان کے علاوہ اور لوگ بھی تھے۔میری عمر اُس وقت چھوٹی تھی لیکن میں یہ خیال کرتا ہوں (شاید یہ اندازہ اب موجودہ عمر کے لحاظ سے ہو ) کہ اگر میں وہ تقریر پڑھتا تو غالباً اچھی پڑھتا۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی