انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page vii

66 (۲) سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۲۱ / اکتوبر۱۹۵۰ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر بنفس نفیس تشریف لا کر ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں حضور نے عقیدہ ، ایمان اور عمل کے آپس کے تعلق کو نہایت لطیف پیرا یہ میں بیان فرما کر نو جوانوں کو اپنے عقیدہ یعنی کلمہ کو ایمان سے مزین کر کے عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی نصیحت فرمائی۔اس مضمون کو بیان کرنے سے قبل نماز میں یکسوئی پیدا کرنے کے لئے امام کی اطاعت اور صفوں کو سیدھا بنانے کی بھی تلقین فرمائی اور فرمایا ” نماز میں جس کی صف سیدھی نہیں اُس کا دل ٹیڑھا ہے۔“ حضور نے فرمایا کہ کلمہ شہادت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز۔صرف کلمہ کو دُہرا لینا ایمان نہیں بلکہ ایمان در حقیقت وہ قوت محرکہ ہے جو صداقتوں کو ماننے اور اس کو دنیا میں پھیلانے کے پیچھے عمل کر رہی ہے۔کلمہ پر خالی یقین کر لینا ہی کافی نہیں۔اس کی مثال تو اُس بیلنے کی ہے جو گنے کے بغیر خالی چلایا جائے۔اگر رس لینا ہے تو گنا اُس میں ڈالنا پڑے گا اس لئے ایمان میں حلاوت لانے کے لئے قوت محرکہ ہونی ضروری ہے۔پس ایمان، عقیدہ اور قوت محرکہ کے مجموعہ کا نام ہے۔جب عقیدہ اتنا پختہ ہو جائے کہ انسان اپنے اندر اس کے ذریعہ تبدیلی پیدا کرے تو اس کو مومن کہتے ہیں۔پھر عمل کے ذریعہ اپنے ایمان کا لباس تیار کرتا ہے کیونکہ عمل ایمان کا لباس ہے۔اس لئے احمدیت میں داخل ہونے کے لئے سب سے پہلی چیز جو پیدا کرنی ہے وہ ایمان ہے عقیدہ اس کا ایک حصہ ہے۔دوسری چیز عمل ہے اور تیسری چیز راست بازی ہے کیونکہ مذہب نام ہے ہی راست بازی کا۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مذہب پر چلنے والا شخص سچائی کو اپنے ہر شعبہ زندگی میں داخل کرتا ہے اور جھوٹ سے دُور رہتا ہے کیونکہ جھوٹ اور مذہب دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔-