انوارالعلوم (جلد 22) — Page 621
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۲۱ سیر روحانی (۶) بدر کی جنگ میں جن کفار کو مسلمانوں نے قید کر لیا تھا اُن میں حضرت عباس بھی شامل تھے اور چونکہ وہ ناز و نعمت میں پلے ہوئے تھے اس لئے جب انہیں رسیوں سے جکڑا گیا تو انہوں نے شدت تکلیف کی وجہ سے کراہنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں ان کے کراہنے کی آواز پہنچتی تو آپ بے چینی میں بار بار کروٹیں بدلتے مگر زبان سے کچھ نہیں فرماتے تھے۔صحابہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو وہ سمجھ گئے کہ اس کی وجہ حضرت عباس کا کراہنا ہے وہ چپکے سے اُٹھے اور انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور اُن کے کراہنے کی آواز بند ہو گئی۔تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کے کانوں میں حضرت عباس کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے صحابہ سے فرمایا عباس کے کراہنے کی آواز کیوں نہیں آ رہی ؟ انہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! ہم نے آپ کی تکلیف کے خیال سے اُن کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں آپ نے فرمایا یہ انصاف کے خلاف ہے کہ باقی قیدیوں کو سختی سے جکڑا جائے اور عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں۔جاؤ اور یا تو عباس کی رسیاں بھی گس دواور یا پھر باقی قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دو۔۱۳۷ قیصر روما کے دربار میں غرض جس پہلو کے لحاظ سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے آپ تعریف ہی تعریف کے ابوسفیان کا اقرار قابل دیکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب قیصر روما نے ابوسفیان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مختلف سوالات کئے تو ہر سوال کے جواب میں اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبی اور آپ کے کمال کا اعتراف کرنا پڑا۔جب اس نے پوچھا کہ اس شخص کا خاندان کیسا ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ وہ ایک نہایت معزز خاندان میں سے ہے۔جب اُس نے پوچھا کہ کیا دعویٰ سے پہلے تم نے کبھی اسے کسی بُرائی میں مبتلاء دیکھا ؟ تو اُس نے کہا ہر گز نہیں۔جب اُس نے پوچھا کہ اس کی عقل اور اصابت رائے کا کیا حال ہے؟ تو ابوسفیان کو یہی کہنا پڑا کہ ہم نے اُس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔جب اُس نے پوچھا کہ کیا اُس نے کبھی