انوارالعلوم (جلد 22) — Page 594
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۴ سیر روحانی (۶) کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔چنانچہ حضرت عمرؓ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ درخواست پیش کی۔حضرت ابو بکر نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے نہایت غصہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اُسے روک لے؟ پھر آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر دشمن کی فوجیں مدینہ میں گھس آئیں اور گتے مسلمان عورتوں کی لاشیں گھسیٹتے پھر میں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا ؟ یہ جرات اور دلیری حضرت ابو بکر میں اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ خدا نے یہ فرمایا کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ و الذين معه اشراءُ عَلَى الْكُفَّارِ - جس طرح بجلی کے ساتھ معمولی تار بھی مل جائے تو اس میں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کے نتیجہ میں آپ کے ماننے والے بھی آیشداء علی الکفار کے مصداق بن گئے۔حضرت ابوبکر کی اسلام کیلئے اسی طرح ایک دفعہ باتوں باتوں میں حضرت ابوبکر کے ایک بیٹے نے جو بعد میں مسلمان غیرت اور جذ بہ ء فدائیت ہوئے تھے کہا ابا جان! فلاں جنگ میں جب آپ بدر مقام سے گزرے تھے تو اُس وقت میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا میں اگر چاہتا تو آپ کو قتل کر سکتا تھا مگر میں نے کہا باپ کو مارنا درست نہیں۔حضرت ابوبکر نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بیچ گیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا۔۹۵ عبداللہ بن اُبی بن سلول ایک جنگ کے مواقع پر انصار اور مہاجرین میں جھگڑا پیدا ہو گیا۔اُس وقت عبد اللہ بن اُبی بن سلول جو ایک کے بیٹے کا اخلاص دیربنہ منافق تھا اُس نے سمجھا کہ یہ انصار کو بھڑ کانے کا اچھا موقع ہے وہ آگے بڑھا اور اُس نے کہا اے انصار ! یہ تمہاری غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ