انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 589

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۹ سیر روحانی (۶) یہ پہلے سے زیادہ جوش اور انتقامی قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے کمر بستہ ہو جائینگے مگر آپ نے اپنی یا اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ خدا نے جس پیغام کے پہنچانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے میں اس کے پہنچانے میں اپنے آخری سانس تک کوشش کرتا چلا جاؤں گا اور کبھی اس میں غفلت اور کوتا ہی سے کام نہ لونگا۔عماید قریش کے آنے پر رسول کریم جب مکہ میں اسلام نے پھیلنا شروع کیا اور قریش کو نظر آنے لگا کہ ان کی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چچا کو جواب کوششیں نا کامی کا رنگ اختیار کرتی جا رہی ہیں تو انہوں نے اپنا ایک وفدا بو طالب کے پاس بھیجا جس میں ابو جہل ، ابوسفیان اور عتبہ وغیرہ قریش کے بڑے بڑے رؤساء شامل تھے۔انہوں نے ابوطالب کے پاس آکر کہا کہ آپ ہماری قوم میں معزز ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اب بات حد سے بڑھ چکی ہے ہم نے آج تک بہت صبر کیا ہے مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے بنوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں ہم خود اس سے نپٹ لینگے۔اور اگر آپ اپنے بھتیجے کو بھی نہ سمجھائیں اور اس کی حمایت سے بھی دستبردار نہ ہوں تو ہم آپ کا بھی مقابلہ کرینگے اور آپ کو اپنی لیڈری سے الگ کر دینگے۔ابوطالب کے لئے یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے ! آج تیری قوم کے معززین کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا وہ تیری باتوں سے سخت مشتعل ہو چکے ہیں اور قریب ہے کہ وہ لوگ کوئی سخت قدم اُٹھا ئیں اور مجھے بھی تکلیف پہنچائیں۔میں محض تیری خیر خواہی کے لئے کہتا ہوں کہ ان باتوں کو چھوڑ دے ورنہ میں اکیلا ساری قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یہ سخت ترین گھڑی تھی۔ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے آپ کو پالا تھا اور جس کے پاؤں میں کا نا پچھنا بھی آپ گوارہ نہ کر سکتے تھے اُسے