انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 588

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۸ سیر روحانی (۶) دونوں چیزیں انسان کے تمام اعمال کی جڑ ہیں یعنی کسی جگہ پر اثر قبول کرنا اور کسی جگہ پر اُس کو ر ڈ کر دینا۔اچھے اثرات کو قبول کرنے اور اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے متعلق یہ بیان کیا بُرے اثرات کو رڈ کرنے کی خوبی گیا ہے کہ وہ اشداء عَلَى الْكُفَّارِ اور رُحَمَاء بَيْنَهُمْ ہیں یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر ا ثر کو قبول کرنے والے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ شیطان کا اثر بھی قبول کر لیتے۔اور یہ بھی نہیں کہ کسی کا اثر قبول نہ کریں کیونکہ اس صورت میں وہ فرشتوں کے اثر کو بھی رڈ کر دیتے بلکہ اُن کے اندر یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ان میں یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ کتنے ہی تکلیف دہ نتائج ہوں پھر بھی وہ کسی غلط اثر کو قبول نہیں کرتے اور یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ حالات کتنے مخالف ہوں وہ اچھی چیز کے اثر کورڈ نہیں کرتے۔جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب اور دین کے خلاف ہو تو وہ ایک ایسے پہاڑ کی مانند بن جاتے ہیں جس پر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی لیکن جہاں تقویٰ اور باہمی اخوت اور برادرانہ تعلقات کا سوال ہو وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ تصویر لینے کا ایک شیشہ ہیں اور فوراً اس کے عکس کو قبول کر لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں یہ دونوں باتیں اور آپ کے صحابہ کا نمونہ نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں یعنی ایک طرف تو غیرت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ دین کے خلاف کوئی بات سُننا تک برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری طرف وہ محبت میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ اپنے بھائیوں کا کوئی قصور اُنہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دشمنوں نے کئی مواقع پر چاہا کہ آپ ان کے بارہ میں نرمی سے کام لیں اور اُن کے جوں کی تنقیص نہ کریں مگر آپ نے کسی مرحلہ پر بھی اُن کے آگے سر نہیں جھکا یا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ اس انکار کے نتیجہ میں ان لوگوں کی آتشِ غضب اور بھی بھڑک اُٹھے گی اور