انوارالعلوم (جلد 22) — Page 545
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۵ سیر روحانی (۶) اپنے صحن میں بیٹھا ہوا تھا مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حکیم صاحب ! ایک بات پوچھنی ہے آپ خفا تو نہیں ہونگے ؟ سنا ہے کہ مرزا صاحب پلاؤ اور بادام روغن کھا لیتے ہیں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے کھا لیتے ہیں۔حیران ہو کر کہنے لگا کیا یہ ٹھیک بات ہے؟ میں نے کہا ڈپٹی صاحب ! ہمارے مذہب میں پلاؤ اور بادام روغن جائز ہے۔کہنے لگا کیا فقراء کے لئے بھی جائز ہے؟ میں نے کہا ہاں ہمارے مذہب میں فقراء کو بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔اس پر وہ اچھا! کہہ کر واپس چلا گیا گویا جوطیب چیزیں کھائے وہ ان کی نگاہ میں بزرگ نہیں ہو سکتا تھا۔یہ تو حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ہے جو تہذیب سے بات کرتے تھے ہمارے ایک اور دوست تیز زبان تھے اور مذاقیہ طبیعت کے تھے امرتسر کے رہنے والے تھے ان کے جواب ہمیشہ اسی طرز کے ہوا کرتے تھے۔ان کو کوئی ہند و مجسٹریٹ مل گیا اور کہنے لگا کیا ہے تمہارا مرزا تم کہتے ہو وہ خدا کا ماً مور ہے اور یہ ہے اور وہ ہے ہم نے سنا ہے کہ وہ بادام اور پستہ اور مُرغ سب چیزیں کھا لیتا ہے۔وہ کہنے لگے آپ مرزا صاحب کو چڑانے کے لئے پاخانہ کھایا کریں مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔غرض اس نے اپنے رنگ میں جیسے اس کا اپنا مذاق اور علم تھا جواب دیدیا تو بات یہ ہے کہ دنیا میں بزرگی کا نقشہ یہی کچھ رہ گیا تھا کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو۔اسی طرح مکان کی صفائی بھی کوئی مکان کی صفائی سے متعلق ارشادات ضروری نہیں کبھی جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کی صفائی کا بھی حکم دیا اسکے چنانچہ آپ نے مسجد کی صفائی کے متعلق کئی احکام دیئے (اصل مکان جو آپ کے قبضہ میں تھا وہ وہی تھا ) آپ نے فرما یا مسجد کو صاف رکھو، اس میں جھاڑو دیا کرو، اس میں خوشبوئیں جلا یا کرو تا کہ وہ صاف رہے۔۳۲ راستوں کی صفائی کا حکم اسی طرح راستوں کی صفائی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا آپ نے فرمایا اس شخص کو ثواب ملتا ہے جو راستہ میں سے پتھر وغیرہ اُٹھا دے۔۳۳ پاخانہ کے متعلق فرمایا کہ جو شخص