انوارالعلوم (جلد 22) — Page 538
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۸ سیر روحانی (۶) دیکھو یہ معنے یہاں چسپاں ہو جاتے ہیں اور آیات کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے تقریر گورنری کی خبر سنتے ہی وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اور اس بات کی امید رکھنے والے کہ حکم ملتے ہی میں گھوڑے پر چڑھ جاؤں تیار ہو اور ہمیشہ کے لئے اس کام میں مشغول ہو جا جو ہم نے تیرے سپرد کیا ہے اور سب سے پہلے یہ انذار اپنے گھر سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے رشتہ داروں اور بچوں سے شروع کر۔۔اب دیکھ لو یہاں کپڑے دھونے اور انذار کرنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ کپڑے دھونا انذار کی تشریح ہے اور ثيابك نطق سے انذار ختم نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے صابن کے گھت گھت کرنے سے تو انذار ختم ہو جاتا ہے لیکن اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کرنے سے انذار ہوتا ہے ختم نہیں ہوتا۔پس یہ تضاد نہیں بلکہ عین وہی چیز ہے۔قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دينتابك لطيفة - تو اٹھ اور و ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔جا کر اپنی قوم کو سمجھا اپنے کے عمل سے ثیاب کے معنوں کی تصدیق رشتہ داروں کو سمجھا، اپنے دوستوں اور عزیزوں کو سمجھا ، چنانچہ ہم قرآن کریم میں اس کی تصدیق دیکھتے ہیں مثلاً بیویوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔هُن لباس لكم ۲۲ عورتیں تمہارا لباس ہیں۔اب دیکھ لو ان کو ثِياب بتایا گیا ہے پھر اسی آیت میں طہر کا لفظ آتا ہے اور قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق یہی لفظ استعمال کرتا ہے، فرماتا ہے اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ٢٣ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نبوت سے کہہ دیا تھا کہ جا اور اپنے خاندان کو پاک کر۔اب ہم تجھ کو کہتے ہیں کہ وہ جو ہم نے حکم دیا تھا اس کا ہم بھی پکا ارادہ کر چکے ہیں اور تیرے اہل و عیال کو پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا کر چھوڑیں گے۔گویا وہ خبر اس جگہ آکر بیان ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ہم نے کہا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا لیکن ہم اسے خود پورا کرینگے کیونکہ ہم نبی کو جو کچھ کہا کرتے ہیں اس کی