انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 30

انوار العلوم جلد ۲۲ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو کرتی ہے۔جس طرح بیلنا ہومگر اُس میں گنا نہ ڈالا جائے تو بلینے کو حرکت دینے سے رس نہیں ٹپکتی۔اس طرح اگر صرف عقیدہ ہی عقیدہ ہوقوت محرکہ نہ ہو تو اس سے انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔جس طرح بیلنے کو جب تک حرکت نہ دی جائے اور اس میں گنا نہ ڈالا جائے انسان رس حاصل نہیں کر سکتا۔رس نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیلنا میں گنے ڈالے اور پھر اسے حرکت دے۔اسی طرح کوئی مقصد معین ہوتا ہے اور پھر انسان کے اندر ایک جوش ہوتا ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے اور پھر انسان وہ کام کرنے لگ جائے تو اس کو عمل کہتے ہیں ،عمل کے بغیر بھی انسان صحیح نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔میں نے بتایا ہے کہ خالی بیلنا حرکت کرتا رہے اس میں گنا نہ ڈالا جائے تو رس حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح عقیدہ ہو لیکن قوت محرکہ صحیح طور پر کام نہ کرے تو ایمان بیکار ہے۔اسی طرح اگر عمل ہو ایمان نہ ہو تو وہ عمل بھی بیکار ہے اس کا کوئی مفید نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔یورپ والے کتنا عمل کر رہے ہیں لیکن چونکہ وہ عمل ایمان کے تابع نہیں اس لئے روحانیت سے دور ہیں۔۔وہ در اصل عمل ایمان کا لباس ہے اور ایمان مخفی چیز ہے۔جب ہم لباس کو دیکھتے ہیں تو اس سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی آدمی ہے۔فرض کرو دور سے کوئی آدمی آرہا ہے ہم اس کے کپڑے دیکھتے ہیں تو ان کپڑوں سے سمجھ لیتے ہیں کہ وہ آدمی ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ محض کپڑے ہی ہوتے ہیں کوئی آدمی وہاں نہیں ہوتا جیسے کوئی کپڑے دھو کر سکھانے کیلئے دیوار یا کسی درخت پر لٹکا دے۔لیکن عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جب کپڑے نظر آئیں تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی آدمی ہے۔اگر کوئی قمیص ہل رہی ہے اور ایک شخص دوسرے سے کہتا کہ دیکھو وہ کوئی آدمی آرہا ہے تو وہ اسے جھٹلائے گا نہیں یہ نہیں کہے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو۔دس لاکھ میں سے نو لاکھ نا نوے ہزار نو سو ننانوے حالات میں وہ آدمی ہوتا ہے خالی قمیص نہیں ہوتی۔لیکن کبھی کبھی خالی قمیص بھی لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور یہ استثنائی چیز ہے۔ورنہ عام حالات میں قمیص اور آدمی دونوں اکٹھے ہوں گے۔اسی طرح جب عمل نہیں ہو گا ہم ایمان کو نہیں مانیں گے اور عمل ایمان کے