انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 460

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۰ چشمہ ہدایت تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ انگور کا ٹوکرا اُٹھا کر سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل پڑو؟ کہنے لگا بس یہی میں بھی سوچتا چلا آ رہا تھا کہ یہ بات کیا ہوئی۔یہی حال ان کا ہے کہ مسیح کو قتل نہیں کیا گیا، مسیح کو صیب نہیں دیا گیا اس سے ثابت ہوا کہ مسیح آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے اور اب وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ بات کیا ہوئی ؟ کیا جسے قتل نہ کیا جائے یا جسے صلیب نہ دیا جائے وہ آسمان پر چلا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم بیسیوں آیات پیش کرتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پھر صحابہ کا اجماع بھی اسی پر ہوا کہ تمام رسول فوت ہو چکے ہیں اور یہ پہلا اجماع تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہوا۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جاتے تو حضرت عمر کی تو جان ہی نکل جاتی۔غرض نفلی طور پر کوئی چیز بھی نہیں جو ہمیں اس عقیدہ سے متزلزل کر سکے۔باقی رہی عقل۔سو عقلی طور پر دلیل استقرائی ہمارے حق میں ہے ہم دیکھتے ہیں کہ جو بھی پیدا ہوتا ہے وہ مرتا ہے۔استثناء یہ لوگ بتاتے ہیں کہ عیسی پیدا ہوا اور وہ مرا نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ آم کے درخت کو ہمیشہ آم ہی لگیں گے لیکن یہ لوگ ہم سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ استثنائی طور پر کیکر کو بھی آم لگ جاتا ہے ہم کہیں گے عقل اس کو نہیں مانتی۔عقل یہی کہتی ہے کہ کیکر کو آم نہیں لگ سکتا ہمیشہ آم کے درخت کو ہی آم لگے گا۔اسی طرح جو شخص بھی پیدا ہوا وہ مرا اور جو شخص بھی پیدا ہو گا وہ مرے گا۔پھر عیسی کا استثناء کیسا ؟ ابھی ہمارے اخبار میں ایک مضمون چھپا ہے کسی غیر احمدی نے نظم کہتے ہوئے ایک شعر کہ دیا کہ:- جناب موسیٰ عیسی کے بعد دنیا سے ہوئے رسول معظم بھی سوئے خلد رحیل اب شعر سے صاف ثابت ہوتا تھا کہ موسی عیسی سب فوت ہو چکے ہیں، لیکن جب اُس سے کہا گیا کہ دیکھو تم نے خود اقرار کر لیا ہے کہ عیسی فوت ہو چکا ہے تو اب اس ڈر سے کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے اُس نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ اس کے یہ معنے تھوڑے ہی ہیں کہ عیسی فوت ہو چکا ہے یہ تو اپنی طرف سے معنے کر لئے گئے ہیں۔اب بات کیا ہے؟ بات یہ