انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 377

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۷ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہوتی ہے تو چندہ ادا کرتے ہیں۔حالانکہ سیدھا سادھا طریق یہ تھا کہ آمد کم ہو گئی ہے تو وصیت منسوخ کرالو اور جب حالات درست ہو جائیں تو پھر وصیت کر دو لیکن جماعت کے دوست اس اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔وہ نا جائز طریق اختیار کرتے ہیں۔میں جماعت سے کہوں گا کہ جو لوگ کام کرنا نہیں چاہتے بہتر ہے کہ وہ الگ ہو جائیں۔جن لوگوں کا اس تحریک میں حصہ لینے کو جی نہیں چاہتا ہم ان کو بُرا سمجھتے ہیں لیکن وہ لوگ ان لوگوں سے اچھے ہیں جنہوں نے وعدہ کیا اور پورا نہ کیا۔کم سے کم وقت پر انہوں نے ہمیں ہوشیار تو کر دیا۔یہودیوں نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا انا ههنا قاعِدُون تو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیھما السلام ہوشیار ہو گئے اور انہوں نے ایک سکیم بنالی۔اگر یہودی ان کے ساتھ ہو جاتے لیکن وقت پر بھاگ جاتے تو بوجہ نبی ہونے کے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام بھاگ تو نہیں سکتے تھے لازمی بات تھی کہ وہ کم سے کم مارے جانے کے خطرہ میں پڑ جاتے لیکن جب یہودیوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے تو انہوں نے ایک نئی سکیم بنالی جس سے اُن کی جانیں بھی بچ گئیں اور کام بھی ہو گیا۔لیکن اگر قوم انہیں عین وقت پر دھوکا دیتی تو اُن کی جانیں خطرہ میں پڑ جاتیں۔مسلمان جنگ حنین میں اپنی غلطی کی وجہ سے بھاگے اور ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک شخص رہ گیا یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا جس نے مدد کی اور آپ کو دشمن کے نرغہ سے بچالیا لیکن جہاں تک ظاہری تدبیر کا سوال ہے اُس وقت جو صورت پیدا ہو گئی تھی اُس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت یقینی تھی۔خدا تعالیٰ نے ہی معجزہ دکھلایا ور نہ بھاگنے والوں نے تو آپ کو دشمن کے سپرد کر دیا تھا۔اگر وہ ساتھ نہ جاتے تو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور تدبیر بتا دیتا جس سے آپ کی جان محفوظ رہتی اور طائف بھی فتح ہو جاتا۔آخر مد ینہ بھی تو بغیر لشکروں کے فتح ہو ا تھا۔پس تمہارے سامنے دونوں طریق موجود ہیں۔زیادہ صحیح یہی ہے کہ ہر احمدی تحریک