انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 346

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۶ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو کہ فلاں بات کے معلوم ہونے پر میرا خاوند ناراض ہوگا تو بھی اس معاملہ میں جھوٹ ہی بولتی ہے سچائی سے کام نہیں لیتی کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہ اگر میں نے سچ بولا تو میرا خاوند ناراض ہو گا۔وہ ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ میں محکوم نہیں مجھے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں اور دوسری طرف وہ مرد سے ڈرتی ہے۔اگر اس کا مرد سے ڈرنا ٹھیک ہے تو پھر وہ محکوم ہے اسے دنیا کے کسی فلسفہ اور قانون نے آزاد نہیں کیا۔اور اگر وہ مرد کے برابر قومی رکھتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ جھوٹ بولے اور اسی طرح صداقت پر قائم نہ رہے جس طرح آزاد مرد صداقت پر قائم رہتے ہیں۔یہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے لیکن تمہاری اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔تمہیں اپنے دل میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ تم آزاد ہویا نہیں۔اگر تم آزاد نہیں ہو تو کہو کہ خدا نے ہمیں غلام بنا دیا ہے اور چھوڑ و اس بات کو کہ تمہیں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور اگر تم آزاد ہو تو خاوند کے ڈر کے مارے جھوٹ بولنا اور راستی کو چھپانا ایک لغو بات ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک کی عورت میں کام کرنے کی عادت بہت کم ہے۔لجنہ بنی ہوئی ہے اور کئی دفعہ میں اسے اس طرف توجہ بھی دلا چکا ہوں مگر ہنوز روز اوّل والا معاملہ ہے۔تمہیں اپنے کالج کے زمانہ میں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ عورت کی زندگی زیادہ سے زیادہ کس طرح مفید بنائی جاسکتی ہے۔یہ پرانا دستور جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اب بھی ہے کہ کھانا پکانا عورت کے ذمہ ہے اس میں اب تبدیلی کی ضروت ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں عورت صرف کھانے پینے کے کام کے لئے ہی رہ گئی ہے اس کے پاس کوئی وقت ہی نہیں بچتا جس میں وہ دینی یا مذہبی یا قومی کام کر سکے۔یورپ کے مدبرین نے مل کر اس کا کچھ حل سوچا ہے اور اِس وجہ سے اُن کی عورتوں کو بہت سا وقت بچ جاتا ہے مثلاً یورپ نے ایک قسم کی روٹی ایجاد کر لی ہے جسے ہمارے ہاں ڈبل روٹی کہتے ہیں۔یہ روٹی عورتیں گھر میں نہیں پکا تیں بلکہ بازار سے آتی ہے اور مرد عورتیں اور بچے سب اسے استعمال کرتے ہیں۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ بادشاہ کے ہاں کیا دستور ہے کہ آیا اُس کی روٹی بازار سے آتی ہے یا نہیں لیکن یورپ میں ایک لاکھ میں سے