انوارالعلوم (جلد 22) — Page 237
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۷ سیر روحانی (۵) عیسائیوں کا ایک اعتراض عیسائی اعتراض کیا کرتے ہیں اور انہوں نے ینا بیخ الاسلام وغیرہ بعض کتابیں بھی اس موضوع پر لکھی ہیں کہ قرآن کریم نے فلاں بات فلاں جگہ سے نقل کی ہے اور فلاں، فلاں جگہ سے۔حالانکہ قرآن کریم تو آپ کہتا ہے کہ میں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے مگر قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے ان کی رڈی باتیں چھوڑ دی ہیں۔اگر اس میں ساری اچھی باتیں نہیں آئیں تو پھر جو قرآن کریم نے اچھی باتیں چھوڑ دی ہیں تم ان کی نقل کر دو اور کہو کہ یہ باتیں قرآن کریم سے رہ گئی ہیں لیکن اگر باقی صرف پھوگ ہی رہ گیا ہے تو ہم نے اس پھوگ کو کیا کرنا ہے۔گائے بھینس چارہ کھاتی ہے اور دودھ دیتی ہے تو اس دودھ کو دیکھ کر کہہ سکتے ہو کہ یہ وہی چارہ ہے جو ہم نے کھلایا تھا مگر پیتے دودھ ہی ہو چارہ نہیں کھاتے۔قرآن کریم نے بھی بعض باتوں کی نقل ہی کی ہے مگر انہیں نقل کر کے اس نے دودھ بنا دیا ہے جسے ہم پی رہے ہیں۔بائیبل صرف ایک گھاس کے مشابہ ہے ، زرتشتی کتابیں صرف ایک گھاس کے مشابہ ہیں ، وید صرف گھاس کے مشابہ ہے لیکن قرآن کریم انہی باتوں کو نقل کر کے جس طرح گائے اور بھینس گھاس کھا کر دودھ دیتی ہیں ان کو گھاس۔سے دودھ کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔پس بیشک قرآن کریم میں بعض باتیں ایسی ہیں جو انجیل کے مطابق ہیں، بعض باتیں ایسی ہیں جو تو رات کے مطابق ہیں اور بعض باتیں ایسی ہیں جو دوسری کتب کے مطابق ہیں مگر اس نے ان تعلیموں کو نہایت ادنیٰ حالت سے لیکر اعلیٰ حالت تک پہنچا دیا ہے۔ہمارے مخالفوں کو گھاس کھانا ہی اچھا لگتا ہے تو وہ بے شک گھاس کھا ئیں ہم تو دودھ ہی پئیں گے۔قرآن کریم کی افضلیت پھر فرماتا ہے کہ یہ قرآن مَشَانِی ہے۔مَشَانِی کے متعلق ہم عربی لغت میں دیکھتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں۔وہاں مَثَانِی کے کئی معنے لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ مَابَعْدَ الْأَوَّلِ مِنْ اَوْتَارًا لعُوْدِ یعنی مزامیر اور سرنگی کی تاروں میں سے پہلی تار کے بعد جو دوسری تاریں آتی ہیں اُن کو مَشَانِی کہتے ہیں۔پس قرآن کریم کو مَشَانِی قرار دینے کے یہ معنے ہوئے