انوارالعلوم (جلد 22) — Page 229
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۹ سیر روحانی (۵) کی حکومت کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔گویا تیرہ سو سال کے بعد جو تغیر ہوا وہ یہی تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قیامت تک ہے اور اس میں کوئی وقفہ نہیں۔دُنیا کی تمام تاریخیں بتاتی ہیں کہ تیرہ سو سال کے بعد کوئی نبوت نہیں چلی۔موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت عیسی علیہ السلام آئے مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اب موسوی سلسلہ ہی قیامت تک قائم رہے گا بلکہ انہوں نے کہا تو یہ کہ: - وو دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑ ا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر ہر گز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔‘ھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال کے بعد جو شخص آیا اُس نے کہا میں اس کی لئے آیا ہوں تا قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنر جنرل ہونے کا اعلان کروں۔دنیاوی حکومتوں کی نا پائیداری دنیا میں بادشاہ اپنی حکومت کا اعلان کرتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ ان کی حکومت ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے گی لیکن چند سال کے بعد ہی ایک نیا انقلاب پیدا ہو جاتا ہے اور اُن کی جگہ کوئی اور حکومت ملک پر قابض ہو جاتی ہے۔دیکھو ۱۹۱۱ء میں جارج پنجم نے دتی میں ایک بہت بڑا در بار منعقد کیا اور اس بات پر بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا کہ اب انگریزی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہو گئی ہے لیکن اس اعلان پر ابھی چھتیں سال گزرے تھے کہ ۱۹۴۷ ء میں انگریز اپنا بوریا بستر باندھ کر یہاں سے چلے گئے۔یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو چند سال میں ہی رونما ہو گیا۔لیکن یہاں تیرہ سو سال پہلے اعلان ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قیامت تک قائم رہے گی اور تیرہ سو سال کے بعد کوئی سید نہیں، قریش نہیں بلکہ اُس قوم کا ایک فرد جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کا فرتھی جو اسلام کو جانتی تک نہ تھی اور اُس نے بعد میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے خون کی ندیاں تک بہا دیں اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے