انوارالعلوم (جلد 22) — Page 228
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۸ سیر روحانی (۵) کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ اسلام اور قرآن کا اثر آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے کم ہونا شروع ہوگا اور اس پر ایک ہزار سال کا عرصہ صرف ہو گا۔اگر کتاب نے منسوخ ہونا ہوتا تو کتاب کی منسوخی تو یکدم ہوتی ہے ہزار سال میں آہستہ آہستہ نہیں ہوتی۔پس ہزارسال میں آہستہ آہستہ اسلام کے اُٹھ جانے کے یہی معنی تھے کہ اُس کا اثر لوگوں پر سے کم ہو جائے گا اور جب اثر کم ہو جائے تو اُس وقت کتاب منسوخ نہیں بلکہ ایک نیا معلم بھیجا جاتا ہے جو اُس کتاب کی تعلیم کو دنیا میں پھر قائم کر دیتا ہے۔پس بہائیت اس آیت سے بالکل ناجائز فائدہ اُٹھاتی اور لوگوں کو دھوکا میں مبتلاء کرتی ہے۔بہر حال اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہزار سال میں ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے تین سو سال کو مبارک زمانہ قرار دیا ہے جس میں اسلام کے متعلق یہ مقدر تھا کہ وہ دنیا میں ترقی کرتا جائے گا اور دور تنزل قرآن کریم نے ہزار سال بتایا ہے اس لئے ہزار سال میں پہلے تین سو سال جمع کئے جائیں تو یہ تیرہ سو سال کا عرصہ بن جاتا ہے پس قُل لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْ خِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَّلَا تَسْتَقْدِمُونَ کے یہ معنے ہوئے کہ تم اسلام کے دورِ تنزل کو دیکھ کر اس واہمہ میں مبتلاء ہو سکتے ہو کہ شاید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ختم ہوگئی ، لیکن تیرہ سو سال کے بعد تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ اس کی حکومت ختم نہیں ہوئی بلکہ قیامت تک کے لئے ہے۔احیائے اسلام کے لئے مسیح موعود کی بعثت چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مین تیرہ سو سال کے ختم ہونے پر امت محمدیہ میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے بھیجا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے فرمائی تھیں۔میں اس لئے نہیں آیا کہ کوئی نیا مذہب قائم کروں، میں اس لئے نہیں آیا کہ موسوی مذہب کو قائم کروں، میں اس لئے نہیں آیا کہ عیسوی مذہب کو قائم کروں بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم