انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 208

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۰۸ متفرق امور حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہم نے اس دفعہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم مرکز سے الیکشنوں میں دخل نہیں دیں گے بلکہ انتخابی حلقہ کے احمدی باہم مشورہ سے فیصلہ کریں گے۔ظاہر ہے کہ اس اصل کے فیصلہ کے بعد کوئی سمجھوتہ کسی انجمن سے نہیں ہوسکتا۔ذاتی طور پر جو لوگ مجھ سے ملے ہیں احمدی یا غیر احمدی میں نے اُن کو یہی مشورہ دیا ہے کہ یہ تفرقہ کا وقت نہیں تم کو چاہئے کہ لیگ کی کوئی غلطی ہے تو اندر رہ کر اصلاح کرو اس وقت الگ الگ پارٹیاں نہ بناؤ مگر میرے اس رویہ کا بدلہ یہ ہے کہ جو پنجاب کے بعض لیگی لیڈر یا لیگی راہنما دے رہے ہیں۔انسان کی تو طینت یہ ہے کہ وہ محسن اور خیر خواہ کی قدر کرتا ہے مگر پنجاب کے یہ کا رکن شاید اپنے آپ کو انسانیت سے بھی بالا سمجھتے ہیں۔میں دوستوں کو اس کے با وجود اصولی مشورہ دوں گا تفصیلی نہیں دے سکتا کہ فیصلہ کے خلاف ہے، کہ احرار اور احرار کے دوست جو چاہیں کریں ، انہیں اپنے فرض کو نہیں بولنا چاہئے۔انہیں چاہئے کہ پاکستان کے فائدہ کے لئے فساد اور اختلاف کو کم کرنے کی ہر جگہ کوشش کریں اور دلوں کو ملانے کی کوشش کریں اور ہر ایک کو نصیحت کریں کہ یہ وقت اختلاف کا نہیں۔پاکستان کے مفاد کو پارٹی بازی کے مفاد سے مقدم رکھو اور مل کر ملک کی پھنسی ہوئی کشتی نکالنے کی کوشش کرو۔میں جناح لیگ والوں سے کہتا ہوں کہ آپ کے اخبارات نے زیادہ شرافت سے کام لیا ہے اور اس وجہ سے یقیناً میرا یہ مشورہ آپ کے لئے تکلیف دہ ہو گا۔لیکن پاکستان ذاتی فوائد سے مقدم ہے۔مجھے معاف کریں کہ باوجود آپ کے نیک سلوک اور شرافت کے میں آپ کے حق میں رائے نہیں دے سکتا۔اگر پاکستان کے لئے خطرہ نہ ہوتا تو اس فتنہ انگیزی کے بعد میں آپ کی تائید کا اعلان کرتا مگر زمانہ کے حالات مجھے مجبور کرتے ہیں کہ میں صلح اور اتحاد پر ہی زور دوں۔ہاں میرے دل پر جہاں آپ کے اس فعل کا بُرا اثر ہے کہ آپ نے اپنے جذبات کو قربان کر کے اتحاد کو قائم کیوں نہ رکھا۔وہاں اس بات کا اچھا اثر ہے کہ ایسی شہرت کا موقع کہ احمدیت پر جھوٹ بول کر آپ لوگوں میں مقبول ہو سکتے تھے آپ نے ہاتھ سے جانے دیا اور ظلم کے ارتکاب کو پسند نہ کیا۔میں آپ کے