انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 195

۱۹۵ انوار العلوم جلد ۲۲ اور اس اہمیت کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ خیال نہ کیا جائے کہ ان علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں بلکہ اس اہمیت کی وجہ سے کہ ان میں گردوارے ہیں وہ علاقے ہمیں دیئے جائیں۔“ ہم نے میمورنڈم میں ثابت کیا ہے کہ سکھوں کے نزدیک مذہبی طور پر جتنی اہمیت ان جگہوں کو حاصل ہے اس سے بہت زیادہ اہمیت قادیان کو حاصل ہے سکھوں نے یہ متبرک مقامات خود مقرر کئے ہیں لیکن اس چیز کا کہ قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ذکر ہے پس احمد یہ مرکز اس عقیدہ کی رو سے الها می مرکز ہے۔چنانچہ اس میں لکھا ہے: The Holy Founder of the Ahmadiyya Movement laid it down that the Headquarters of the Ahmadiyya Community should always be at Qadian۔It is not possible, therefore, for the community or its present Head to transfer the Headquarters of the Community from Qadian to any other place۔یعنی بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے خود اپنی تحریرات میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جماعت کا مرکز ہمیشہ قادیان رہے۔اس لئے جماعت یا جماعت کے موجودہ امام کے لئے ممکن نہیں کہ وہ جماعت کے مرکز کو قادیان کے سوا کسی اور جگہ تبدیل کرے۔پھر میمورنڈم میں بتایا گیا تھا کہ سکھ تو ایک مقامی جماعت ہیں اس کی دوسرے ممالک میں کوئی شاخیں قائم نہیں لیکن جماعت احمدیہ میں مختلف ممالک کے لوگ شامل ہیں اور اگر مذہب کو کوئی اہمیت دی جاسکتی ہے تو وہ اہمیت احمدیوں کو دینی چاہئے چنانچہ ہمارے میمورنڈم میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ :- People from all parts of the world come here for religious and spiritual training۔True, that Hindus number about 300 millions and sikhs about 5 millions but there are no conversions among them from