انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 185

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۵ کیونکہ اسے پہلے ہی یہ علم تھا کہ اِن اعتراضات میں کوئی حقیقت نہیں اور یہ اصل واقعات کے بالکل خلاف ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے ان اعتراضات کی پوری پوری تحقیقات کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ الزامات اور اعتراضات گلیۂ بے بنیاد ، خلاف واقعہ اور جھوٹے ہیں۔آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ہرگز جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش نہیں ہوئے نہ آپ نے اُنکی طرف سے کسی کیس کی وکالت کی اور نہ انہوں نے کبھی بحث کے دوران میں وہ باتیں کہیں جو ان کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔“ وو جب گورنمنٹ کی طرف سے یہ اعلان ہوا تو احراریوں کو لگے پتو پڑنے کہ جو حکومت سنیوں کی تھی جب وہ بھی کہہ رہی ہے کہ مولوی جھوٹے ہیں تو کیا کریں۔چنانچہ انہوں نے اپنا رُخ بدلا۔اب دیکھیئے کیا ہی نرم الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے۔آزاد لکھتا ہے: " بر سیبل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سرظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات کے اب ذرا اس کو پہلے بیان کے ساتھ ملا کر دیکھو۔کیا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا نام ضمناً آتا رہا ہے؟ پہلے کہا تھا ” ہمارے ظفر اللہ بھی آن موجود ہوئے کہ آج میں پھر پیش ہونا چاہتا ہوں ں مگر احرار کے نزدیک یہ واقعات کا ذکر نہیں صرف خطابت اور تقریر کی روانی کا جوش ہے۔پھر کہا تھا۔آج میں نے مسلمانوں کا کیس پیش نہیں کرنا بلکہ جماعت احمدیہ کا کیس سکھوں کے مقابلہ میں پیش کرنا ہے یہ بھی جوش خطابت ہے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کا ذکر ضمناً آ رہا ہے۔دراصل مخاطب جماعت احمد یہ ہے۔گویا ظفر اللہ اصطلاح ہے اور مراد اس سے جماعت احمد یہ ہے۔یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو انہوں نے بولا۔پہلے کہا چوہدری ظفر اللہ خاں نے یوں کہا پھر وہی مولوی کہتے ہیں ظفر اللہ کا 66