انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 176

انوار العلوم جلد ۲۲ KY عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے کیلئے عدالت میں آیا تھا اُسے تو انگریزوں کا دشمن کہا جاتا ہے اور مرزا صاحب جن پر انگریزوں نے قتل کا مقدمہ کھڑا کیا تھا انہیں انگریزوں کا دوست قرار دیا جاتا ہے۔کیا کوئی عقل اسے مان سکتی ہے؟ ) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے عدالت میں آتے ہی جھٹ آگے بڑھ کر مجسٹریٹ سے کہا مجھے بھی گر سی دی جائے۔ڈپٹی کمشنر حیران ہوا کہ کیا یہ ملاقات کا کمرہ ہے کہ گرسی مانگی جا رہی ہے۔اُس نے کہا تم کون ہو؟ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کہا میں اہلِ حدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور مشہور مولوی ہوں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا تم گواہی دینے آئے ہو ملاقات کرنے نہیں آئے۔پھر گری کا مطالبہ کیسا ؟ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا اگر عدالت میں مجھے گرسی نہیں مل سکتی تو مرزا صاحب کو کیوں گر سی دی گئی ہے؟ ڈپٹی کمشنر نے کہا ان کا نام خاندانی گرسی نشینوں میں ہے مولوی صاحب نے کہا مجھے بھی گر سی ملتی ہے اور میرے باپ کو بھی گر سی ملتی تھی۔میں جب لاٹ صاحب کو ملنے جاتا ہوں تو وہ مجھے گرسی دیتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ” بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا یہ سنتے ہی اردلی آیا اور اُس نے مولوی صاحب کو کمرہ سے باہر کر دیا۔مولوی صاحب وہاں سے نکلے تو خیال کیا کہ اگر یہ بات باہر نکل گئی تو بد نامی ہوگی اس لئے اندر کے معاملہ کی چشم پوشی کے لئے ایک گرسی پر جو باہر برآمدہ میں پڑی تھی اُس پر بیٹھ گئے۔ارد لیوں کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ گرسی کی درخواست پر اسے جھاڑ پڑی ہے۔اُنہوں نے خیال کیا ایسا نہ ہو کہ مولوی صاحب کو یہاں بیٹھے دیکھ کر صاحب ہم پر ناراض ہو۔اُنہوں نے اُس کرسی پر سے بھی انہیں جھڑک کر اُٹھا دیا۔مولوی صاحب وہاں سے بھی ذلت کے ساتھ اُٹھ کر باہر چلے گئے۔عدالت کے باہر ہزاروں آدمی فیصلہ کا اعلان سُننے کے لئے کھڑے تھے۔اُن میں سے بعض تو یہ دعائیں کر رہے تھے کہ اے خدا! اسلام کے پہلوان کو عیسائیوں کی طرف سے دائر شدہ مقدمہ میں بری کر دے اور کچھ لوگ مخافت کی وجہ سے وہاں جمع تھے تا جب حضرت مسیح موعود سزا پا کر باہر نکلیں تو وہ خوشی کے شادیانے بجائیں۔ان لوگوں میں سے بعض تو زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ چادریں بچھا کر اُن پر بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی صاحب نے اپنی سبکی کو