انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 174

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۷۴ متفرق امور (THE REV۔H۔D۔GRISWOLD, PH۔D) نے ”مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی۔پھر مشہور پادریوں فتح مسیح ، وارث مسیح محی الدین، سراج الدین عبد اللہ آتھم اور ہنری مارٹن کلارک نے آپ کی مخالفت کی۔عجیب بات یہ ہے کہ عبد اللہ آ تم سرکاری ملازم تھا اور ڈپٹی کے عہدہ پر فائز تھا۔اگر انگریزوں نے ہی حضرت مسیح موعود کو کھڑا کیا تھا تو کیا انہوں نے اپنے ایک اعلیٰ افسر سے کہنا تھا کہ وہ آپکی مخالفت کرے پھر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے آپ پر مقدمہ چلایا۔امرتسر کے ڈی سی اے ای مارٹینو نے آپ کے نام خلاف قاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کیا یہ ایجنٹوں والا سلوک تھا جو آپ سے کیا گیا ؟ پھر قادیان جانے والے ہر احمدی کا نام نوٹ کیا جاتا تھا۔کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ احمدیت انگریزوں کی قائم کی ہوئی ہے؟ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ ابھی وہ احمدی نہیں ہوئے تھے کہ وہ ڈی سی جالندھر کو کسی کام کے سلسلہ میں ملنے کیلئے گئے۔اُس نے کہا مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنے باپ والا عقیدہ نہیں رکھتے۔مرزا صاحب گواحمدی نہیں تھے لیکن ان میں غیرت پائی جاتی تھی۔انہوں نے ڈی سی کو کہا۔کون حرام زادہ ہے جس نے مجھے حرامزاده قرار دیا ہے؟ اُس نے کہا آپ کو حرامزادہ کس نے کہا ہے؟ مرزا صاحب نے جواب دیا جو شخص اپنے باپ کا مخالف ہوتا ہے وہ حرام زادہ ہوتا ہے اس پر اُس نے معذرت کی کہ مُجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔عیسائیوں میں حضرت مسیح موعود کی اتنی مخالفت پائی جاتی تھی کہ ایک عیسائی ڈی سی مرزا سلطان احمد صاحب کو اپنے باپ کی جماعت میں شامل نہ ہونے پر مبارک باد دیتا ہے۔قادیان جانے والوں پر پہرہ اُس وقت تک قائم رہا جب تک آپ کی وفات سے دو سال قبل پیش نہ آیا۔اُس نے یہ سوال اُٹھایا کہ یہ پہرہ کیوں ہے؟ جب اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مرزا صاحب نے حکومت کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو۔وہ ایک مذہبی آدمی ہیں پھر یونہی اتنے آدمی رستوں پر کیوں بٹھائے گئے ہیں اور اتنا روپیہ کیوں خرچ کیا جا رہا ہے؟ چنانچہ اس کے آنے پر خفیہ پولیس کی ڈائریوں کا سلسلہ ختم ہوا۔اگر ہم