انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 173

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۷۳ متفرق امور میں بتا چکا ہوں کہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ کہا جا سکے۔اب میں واقعاتی مثالیں لیتا ہوں۔اگر احمدیوں کو فی الواقعہ انگریزوں نے قائم کیا ہوتا تو ضروری تھا کہ پادری لوگ جو واقعہ میں عیسائیت کے ایجنٹ ہیں اور جن کی وجہ سے عیسائیت ہر ملک میں پھیل رہی ہے وہ ان کے دوست ہوتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہؤا۔سب سے پہلے جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی وہ پادری ہی تھے۔امرتسر میں پادری رلیا رام کا ایک مشہور پر لیس تھا۔حضرت مسیح موعود ا جب بھی کوئی مضمون چھپوایا کرتے تو اسی پریس سے چھپوایا کرتے۔ایک دفعہ آپ نے ایک مسودہ چھپنے کیلئے بھجوایا اور مسودہ کے ساتھ ایک خط بھی بھیج دیا جس میں طباعت کے متعلق ہدایات درج تھیں۔اُس وقت مسودہ میں کوئی دوسرا کاغذ بھیجنا سرکاری مُجرم تھا۔اب تو صرف اتنا قانون ہے کہ وہ چٹھی بیرنگ ہو جاتی ہے لیکن اُن دنوں یہ بڑا جرم سمجھا جاتا تھا۔آپ رلیا رام کے کسٹومر CUSTUMER) تھے اور دُکاندار اپنے گاہک سے کوئی بُر اسلوک نہیں کرتا لیکن رلیا رام نے ایک انگریز سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات کی مدد سے آپ پر مقدمہ چلا دیا۔مقدمہ میں خود سپرنٹنڈنٹ پیش ہوا۔وکیل نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ نے مسودہ میں ایک دوسرا رقعہ ڈالا ہے یا نہیں ؟ آپ نے کہا ہاں میں نے مسودہ کے ساتھ ایک اور رقعہ بھی بھیجا تھا۔آپ کی اس سچائی کا مجسٹریٹ پر نہایت گہرا اثر ہوا۔سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات نے بہتیرا زور لگایا کہ آپ کو کسی طرح سزا ہو جائے لیکن مجسٹریٹ نے کہا نہیں۔سچ بولنے والے کو سزا نہیں دے سکتا اور اُس نے آپ کو بری کر دیا۔غرض حضرت مسیح موعود کی سب سے پہلے عیسائی پادریوں نے ہی مخالفت کی۔پھر حضرت مسیح موعود کا مشہور مخالف پادری ٹھاکر داس تھا۔اس نے اسلام اور " 6 66 احمدیت کے خلاف ریویو براہین احمدیہ ازالته المزار قادیانی ” ذنوب محمدیہ اور انجیل یا قرآن چار کتابیں لکھی ہیں۔پھر پادری ایس پی جیکب S۔P۔Jacob) تھا اُس نے آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام مسیح موعود تھا۔ڈاکٹر گرس وولڈ