انوارالعلوم (جلد 22) — Page 155
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۵ متفرق امور جو گھلے استدلال کا ہو۔اس مضمون کے متعلق تمہیں نوٹ لکھوانے کے یہ معنے ہیں کہ میں مضمون خراب کر دوں۔اسی طرح مولوی عبدالغفور صاحب کا مضمون یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں فرمایا ہے ، حدیث میں یوں آیا ہے۔یہ مضمون نہیں تھا کہ ایسا کیوں فرمایا گیا ہے۔اگر آپ مولوی صاحب سے یہ پوچھتے کہ مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط اسلام نے جائز رکھا ہے یا نہیں؟ تو دیکھتے کہ مولوی صاحب کس طرح حدیثیں اور آیات قرآنیہ نکال نکال کر آپ لوگوں کے سامنے رکھتے کہ آپ کہتے سُبحَانَ اللہ۔لیکن اگر آپ یہ کہتے ہیں که مرد و عورت کا آزانہ اختلاط اسلام نے کیوں منع کیا ہے اور ”کیوں“ کا جواب ہمارے مولوی کے بس کی بات نہیں۔اگر اس مضمون کے لئے قاضی اسلم صاحب یا ناصر احمد صاحب کو مقرر کیا جاتا یا ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ خود اسے بیان کرتے یا شمس صاحب ( مولا نا جلال الدین صاحب همس ) کو یہ مضمون دیا جاتا جو ولایت میں رہ چکے ہیں تو یہ انتخاب موزوں ہوتا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص کو ہر فن آنا چاہیئے گویا اسے ہرفن مولا ہونا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ”کیوں“ بھی علم کا حصہ ہے اور ہمارے آقا کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ یعنی وہ رسول لوگوں کو یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم نے کیا کہا اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کیوں کہا گویا سائیکالوجی اور علم النفس بھی شریعت کا ایک حصہ ہے لیکن ہم اس کو کیا کریں کہ مدارس میں ہم يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ تو کرتے ہیں اور الحِكْمَةَ کو چھوڑ جاتے ہیں اور جب ہم الحِكْمَةَ کو چھوڑ جاتے ہیں تو ہم اپنے مولویوں سے یہ کس طرح اُمید رکھ سکتے ہیں کہ وہ یہ بھی بیان کریں کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کہا؟ ہمیں کوشش تو کرنی چاہئے کہ اس پہلو کو بھی سیکھیں لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہمارا عالم یہ پہلو بیان کر سکے۔بہر حال یہ اعتراض مولوی عبد الغفور صاحب پر نہیں پڑتا کیونکہ یہ حصہ ان کا موضوع نہیں یہ قصور انتخاب کرنے والے کا ہے۔اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے علم النفس کے