انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 144

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۴۴ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو عورتوں کے دل نرم ہو جائیں گے۔بے شک کچھ مرد ایسے بھی ہوں گے جو کہیں گے خبر دار ! آئندہ احمدی عورتوں سے ہر گز نہ ملنا۔مگر کچھ ایسے بھی ہو نگے جو کہیں گے کہ ان کا لڑ پچر لاؤ تا کہ ہم بھی اس کا مطالعہ کریں۔تو عورتوں میں تعلیم پھیلانا اور انہیں مسائل سکھانالجنہ کا آئندہ پروگرام ہونا چاہئے جس کی ایک شاخ میں نے یہ بتائی ہے کہ ہم نے یہاں کالج کھولنے کا ارادہ کیا ہے۔دوسری چیز جس کی طرف عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ مسجد ہالینڈ ہے۔میں نے عورتوں کے چندہ سے اس مسجد کے بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہالینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے شاید ساری آبادی اس کی پچاس لاکھ سے زیادہ نہیں مگر وہ ایسا ملک ہے جس نے انگریزوں کی طرح بعض دوسرے ملکوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔انڈونیشیا جس کے بڑے بڑے جزائر سماٹرا، جاوا اور بور مینو وغیرہ ہیں اور جس کی آبادی آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے۔یہ سارا ملک پہلے ہالینڈ کے ماتحت تھا۔گویا انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے برابر ہے لیکن مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ہے کیونکہ پاکستان میں ڈیڑھ دو کروڑ ہندو ہیں اور وہاں ہندو اور دوسری قو میں چالیس پچاس لاکھ سے زیادہ نہیں۔اس ملک پر پہلے ہالینڈ کا قبضہ تھا۔ملک کا نام ہالینڈ ہے لیکن قوم کا نام ڈچ ہے جو انڈو نیشیا پر حکومت کر رہی تھی۔اب جس طرح پاکستان آزاد ہوا ہے اسی طرح انڈونیشیا میں پاکستان کے قیام کے بعد نئی اسلامی حکومت قائم ہوئی ہے جس کی آبادی مسلمانوں کے لحاظ سے سارے اسلامی ممالک سے زیادہ ہے لیکن جس طرح پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی انگریزوں کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح انڈونیشیا گو آزاد ہو گیا ہے لیکن چونکہ اس کا تعلق ایک لمبے عرصہ تک ہالینڈ سے رہا ہے ڈچ کی کمپنیاں وہاں کھلی ہوئی ہیں۔ڈچ زبان بولنے والے وہاں پائے جاتے ہیں۔ڈچ زبان میں ڈگریاں ان کو حاصل ہوتی ہیں اس لئے باوجود آزاد ہونے کے ڈچ کا ان پر اثر ہے۔اور انڈونیشیا کا ڈچ پر اثر ہے۔پھر انڈونیشیا کو ایک اور خصوصیت حاصل ہے کہ مشرقی ممالک میں سے وہ ملک جس نے سب سے زیادہ احمدیت کو قبول کیا ہے وہ انڈونیشیا ہی ہے۔