انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 94

انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۴ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر جانتا ان غلطیوں کی وجہ سے قیامت کے دن بھی آپ کا دیدار نصیب ہو یا نہ ہو اور یہ کہہ کر وہ پھر رونے لگ گئے۔ہماری جماعت کے بعض لوگ مخالفت سے گھبراتے اور غصہ میں آ جاتے ہیں لیکن مخالفت کی وجہ سے گھبرانے اور غصہ میں آ جانے کی کوئی وجہ نہیں۔یہ لوگ مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ یہ لوگ اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں اور نعوذ باللہ آپ کو گالیاں دیتے اور اسلام کو بگاڑتے ہیں۔گویا وہ مخالفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اس غلط نہی کے نتیجہ میں کرتے ہیں کہ ہم اسلام کے دشمن ہیں۔ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کرنی چاہئے۔آخر ہم ان کی غلط فہمیوں کو کیوں دور نہیں کرتے۔اگر ایک شخص ہمارے متعلق یہ کہتا ہے کہ ہم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ہتک کرتے ہیں تو تم نے کیوں لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم حسین رضی اللہ عنہ کی ہتک نہیں کرتے بلکہ ان کی تم سے بھی زیادہ عزت کرتے ہیں۔اگر تم نے انہیں یہ بتایا ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ کہا ہے کہ : - خاکم نثار کوچه آل محمد است تو وہ حقیقت سمجھ جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ کیا یہ فقرہ کہنے والا شخص حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا دشمن یا ہتک کرنے والا ہو سکتا ہے لیکن تم گھروں میں بیٹھے رہے اور گھر بیٹھے بیٹھے تم نے سمجھ لیا کہ لوگوں نے اس کے معنے سمجھ لئے ہیں۔پھر فرض کرو اگر مخالف یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب ( علیہ الصلوۃ والسلام) نے مولویوں کو گالیاں دی ہیں تو تم ان کے سامنے گالیوں کی ایک فہرست رکھ دیتے کہ یہ گالیاں مولویوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی ہیں یہ سب گالیاں کتابوں میں چھپی ہوئی ہیں تم وہ کتا بیں نکال کر ان کے سامنے رکھ دیتے اور انہیں بتاتے کہ کیا یہ مولویوں کا کام ہے۔تو ساری بات ان کی سمجھ میں آ جاتی۔مثلاً اگر کوئی کسی کو حرام زادہ کہے اور وہ اُسے کہے بے ایمان ! یہ بات مت کہو اور پہلا شخص جس نے اسے حرامزادہ کہا ہے اس سے لڑنے لگ پڑے تو اگر تیسرا شخص پاس سے گذرتا ہے اور وہ اس سے دریافت کرتا ہے میاں ! تم لڑتے کیوں ہو؟ اور وہ کہتا ہے