انوارالعلوم (جلد 22) — Page 90
انوار العلوم جلد ۲۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر بھی کہی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں مکہ میں اپنے مذہب کو مانتے ہوئے بھی رہ سکتا ہوں مجھے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے۔عکرمہ نے کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ ! میں نے تجھے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہا۔عکرمہ نے کہا اتنا بلند حوصلہ اور ایثار خدا تعالیٰ کے رسول کے سوا کسی میں نہیں ہو سکتا۔جب میں نے اپنے کانوں سے یہ بات سُن لی کہ آپ نے مجھ جیسے شدید دشمن کو بھی معاف کر دیا ہے تو میں آپ کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں۔اب آگے دیکھو۔عکرمہ میں کتنی جلدی فرق پڑتا ہے۔وہ دنیا دار عکرمہ جو اپنی عزت اور وجاہت کی خاطر آپ سے لڑائیاں لڑا کرتا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ عکرمہ ہم صرف تمہارے قصوروں کو ہی نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تم کچھ مانگ لو۔اگر ہماری طاقت میں ہو ا تو ہم تمہاری خواہش کو پورا کر دیں گے تو اُس کے منہ سے یہ بات سجتی تھی کہ مجھے دو سو اونٹ دے دیں ، میرے مکان مجھے واپس دے دیں لیکن وہ کلمہ پڑھتے ہی بدل چکا تھا۔اُس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں آپ سے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے آپ سے لڑائیاں کر کے جو گناہ سہیڑے ہیں خدا تعالیٰ وہ گناہ مجھے معاف کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کچھ ؟ عکرمہؓ نے عرض کیا۔یا رَسُول اللہ ! اس سے بڑی چیز اور کیا ہوسکتی ہے کے پھر اسی عکرمہ نے مسلمان ہونے کے بعد وہ قربانی دکھائی جس کی نظیر نہیں ملتی۔جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی فوجیں قیصر کی فوجوں سے لڑنے کے لئے گئیں تو ایک جگہ دشمن کو زور حاصل ہو گیا دشمن نے ایک ٹیلہ پر عرب تیرانداز بٹھا دئیے جو صحابہ کو پہچانتے تھے اور انہیں ہدایت تھی کہ صحابہ کو چن چن کر ان کی آنکھوں پر تیر ماریں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اکثر صحابہ کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔مسلمانوں کو فکر پڑی کہ صحابہ کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔حضرت عکرمہ حضرت ابو عبیدہ کے پاس گئے (حضرت ابو عبیدہ اسلامی فوج کے کمانڈر تھے ) اور کہا۔صحابہ کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔دشمن کی