انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 56

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں بعض اہم ہدایات میری ہدایت پر عمل کرتے تو وہ حادثہ نہ ہوتا۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جب سیلاب آیا تو شیخو پورہ کا ایک احمدی لڑکا اورلڑکوں کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کو بچانے کیلئے گیا۔پھٹوں کی کشتی پر وہ سوار تھے راستہ میں کشتی الٹ گئی۔باقی تو بچ گئے لیکن وہ چونکہ تیر نانہیں جانتا تھا اس لئے ڈوب گیا۔میں نے خدام کو توجہ دلائی کہ سب سے اہم چیز تیرنا ہے۔زمین پر جو مصیبتیں آتی ہیں ان سے انسان اپنی کوشش سے بچ نکلتا ہے لیکن پانی میں جو مصیبتیں آتی ہیں ان سے بغیر تیر نے کے رہائی نہیں مل سکتی اسی لئے میں نے نو جوانوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی مگر معلوم ہوتا ہے خدام نے اس فن کی طرف جو نہایت شریف فن ہے توجہ نہیں کی۔یہ ظاہر ہے کہ تم تیرا کی کا فن خشکی پر نہیں سیکھ سکتے۔اس لئے بہر حال تمہیں پانی میں داخل ہونا پڑے گا۔کوئی افیونی یہ سمجھ لے کہ وہ خشکی پر بھی تیر سکتا ہے تو اور بات ہے۔ورنہ کوئی عقل مند ایسا خیال نہیں کر سکتا۔کہتے ہیں کوئی افیونی چاند کی چاندنی میں رات کے وقت زمین پر پیٹ کے بل چل رہا تھا۔کسی نے اُس سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ اُس نے کہا میں دریا میں تیر رہا ہوں حالانکہ وہاں کوئی دریا نہیں تھا بلکہ خشکی تھی اور چاند کی روشنی اُس پر پھیلی ہوئی تھی۔تو افیونی تو خشکی پر تیر سکتا ہے لیکن عقل مند نہیں تیر سکتا۔عقل مند اگر تیرنا سیکھنا چاہے تو اُس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ نہریا دریا پر جائے اور تیرنا سیکھے۔عرب لوگ پانی سے بہت ڈرتے تھے اور تیرا کی کا فن سیکھنے کی طرف اُن کی توجہ نہیں تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام پر جو سب سے بڑی آفت آئی وہ تیر نا نہ جاننے کی وجہ سے ہی آئی۔سب سے بڑی اور ہولناک شکست جو اسلام کو پیش آئی وہ جنگ جسر تھی۔ایرانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا زبردست لشکر گیا۔ایرانی سپہ سالار نے دریا پار اپنے مورچے بنائے اور ان کا انتظار کیا۔اسلامی لشکر نے جوش میں بڑھ کر ان پر حملہ کیا اور دھکیلتے ہوئے آگے نکل گئے مگر یہ ایرانی کمانڈر کی چال تھی۔اس نے ایک فوج بازو سے بھیج کر پل پر قبضہ کر لیا اور تازہ حملہ مسلمانوں پر کر دیا۔مسلمان مصلحتا پیچھے لوٹے مگر دیکھا کہ پل پر دشمن کا قبضہ ہے گھبرا کر دوسری طرف ہوئے تو دشمن نے شدید حملہ کر دیا اور مسلمانوں کی بڑی تعداد دریا میں کودنے پر مجبور ہوگئی