انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 651

انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین نہیں۔سزا دینے کا حق قاضی کو ہے۔اگر وہ اپنی بیوی کو بد کاری کرتے دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو اسے قاتل سمجھ کر موت کی سزا دی جائے گی۔اب دیکھو اسلام اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اسلام یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کہیں بدلہ لینے میں جلد بازی سے کام تو نہیں لیا گیا۔کیا جرم کی تحقیق کے سامان پوری طرح مہیا کئے گئے ہیں اور یہ باتیں قاضی دیکھ سکتا ہے۔دوسرا نہیں۔اگر چہ یہ انفرادی حق ہے لیکن کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے لے۔مجرم کو سز ا صرف حکومت کے ذریعہ ہی دلائی جاسکتی ہے۔پھر فرضیت جہاد ہے۔جہاد بھی اکیلا شخص نہیں کر سکتا بلکہ جب جہاد فرض ہوگا تو ساری قوم لڑے گی۔پس جہاد بھی ایک اجتماعی چیز ہے۔اسلام کہتا ہے کہ جب امام کہے کہ اب جہاد کا موقع ہے تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فریضہ کو پورا کرے اور اگر کوئی مسلمان اس فرض کو پورا نہیں کرتا تو وہ شریعت اور قانون کا مجرم ہے۔یہ ایک اجتماعی حکم ہے پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام انفرادی مذہب ہے وہ غلطی پر ہے۔اسلام انفرادی مذہب نہیں بلکہ اجتماعی مذہب ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام ایک طرف تو انفرادیت کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور نہ صرف تسلیم کرتا بلکہ اسے ضروری قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے۔یہ دونوں چیزیں اکٹھی کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں لیکن دراصل یہ متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مددگار ہیں۔ان دونوں کو جمع کئے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔جس مذہب نے صرف انفرادیت کی تعلیم دی ہے وہ بھی تباہ ہو ا ہے۔کوئی مذہب اور کوئی حکومت اپنے لئے ترقی کا راستہ نہیں کھول سکتی جب تک کہ وہ ان دونوں چیزوں پر بیک وقت عمل نہ کر رہی ہو۔اگلے زمانہ میں خدا تعالیٰ سے تعلق محض انفرادیت کے طور پر ہوتا تھا لیکن صحیح راستہ انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان ہے جیسے اگلے جہاں میں ایک پل صراط ہوگی۔یہ اس دُنیا کی پل صراط ہے۔اسلام دونوں چیزوں کو ایک وقت میں بیان کرتا ہے۔ایک طرف وہ انسان کو اتنا بلند کرتا ہے کہ اسے