انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 646

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۶ اتحاد المسلمین مثلاً یہ اتحاد ہے کہ دو آدمی غرق ہونے لگے ہوں اور انہیں ایک شہتیر مل جائے اور وہ دونوں اسے پکڑ لیں لیکن یہ اتحاد نہیں کہ ایک بل میں سانپ ہو اور زید اس میں ہاتھ ڈال دے تو بکر بھی اس میں ہاتھ ڈال دے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اتحاد اس کے لئے مہلک ہو گا۔گویا ہر اتحاد اچھا نہیں ایک موقع پر اتحاد اچھا ہے اور اختلاف بُرا ہے اور ایک موقع پر اختلاف بُرا ہے اور اتحاد اچھا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب بعض اختلافات قدرتی ہیں اور بعض انسانی زندگی کے لئے ضروری تو کیا اسلام میں انفرادیت سکھائی گئی ہے اجتماعیت نہیں سکھائی گئی ؟ یہ تو انفرادیت ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کی چیزیں قبول کر لو اور باقی ترک کر دو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ اسلام انفرادیت کی بھی تعلیم دیتا ہے لیکن اجتماعیت اور ملت کا جو احساس اسلام نے پیدا کیا ہے وہ کسی اور مذہب نے پیدا نہیں کیا۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو اجتماعیت کی طرف توجہ دلائی ہے مثلاً اسلام میں ایک کلمہ ہے جو ہر مسلمان کے لئے ماننا ضروری ہے۔بے شک اسلامی فرقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً ہماری جماعت کو بھی دوسرے فرقوں سے اختلاف ہے لیکن کوئی احمدی ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ میں کلمہ طیبہ نہیں مانتا۔پھر شیعوں کوشنیوں سے اختلاف ہے اور سیوں کو شیعوں سے اختلاف ہے لیکن سنی یا شیعہ کو یہ جرات نہیں کہ کلمہ سے انکار کر دے۔تم کسی اسلامی فرقہ میں چلے جاؤ اور ان سے پوچھ لو وہ کلمہ سے باہر نہیں جائیں گے۔ہر ایک مسلمان یہ کہے گا کہ ہمارا ایک کلمہ ہے اور وہ لَا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ہے۔ہر شخص جو مسلمان ہو گا وہ اس بارہ میں دوسرے مسلمانوں سے متحد ہوگا۔شیعہ سُنیوں سے اختلاف رکھیں گے لیکن کلمہ کے بارے میں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔سنی شیعہ سے اختلاف رکھیں گے لیکن کلمہ میں دونوں متحد ہوں گے اور یہ کلمہ صرف مسلمانوں میں ہے اور کسی مذہب میں نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک عیسائی کو لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کہنا نہیں آتا۔ایک عیسائی بھی لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کہہ سکتا ہے لیکن ان کا اپنا کوئی ایسا کلمہ نہیں جس میں بتایا گیا ہو کہ خدا تین ہیں تم کسی مشن میں چلے جاؤ اور عیسائیوں سے پوچھو کہ کیا تمہارا بھی کوئی۔