انوارالعلوم (جلد 22) — Page 641
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۱ اتحاد المسلمین یہ ایسا اختلاف ہے کہ اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔فرض کرو خدا تعالیٰ مرد کو طاقت دے دے اور کہے تم جو چاہو کرو تو وہ سکون اور آرام نہیں رہے گا جس سے دُنیا چل رہی ہے۔اگر تم اختلاف کو دور کر دو تو انسانی زندگی بے کیف اور بے لذت ہو جائے اور دُنیا میں رہنا مُشکل ہو جائے۔کسی شاعر نے کہا ہے۔ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است یعنی ہر رنگ اور ہر بومفید ہے اور اس کے بغیر کوئی لذت اور راحت نہیں۔پھر بعض اختلافات ایسے ہیں جو نہایت ضروری ہیں۔اگر انہیں مٹا دیا جائے تو دُنیا پر تباہی آ جائے مثلاً ایک بچہ چوری کرتا ہے۔باپ کہتا ہے تم نے چوری کیوں کی ؟ اب اگر کوئی کہے کہ تم اسے کچھ نہ کہو اور آپس میں اتحاد کر لو تو دنیا پر تباہی آجائے یا بچہ نماز نہیں پڑھتا۔باپ کہتا ہے تم نماز پڑھو۔یہ بھی ایک اختلاف ہے جو نہایت ضروری ہے۔اب اگر تم کہو کہ آپس میں اتحاد ضروری ہے اس لئے تم اسے نماز کے لئے نہ کہو تو دُنیا پر تباہی آ جائے۔اسی طرح شرارت سے منع کرنا ، جھوٹ سے منع کرنا ، غرض ہزاروں اختلافات ایسے ہیں جن کا مٹانا دُنیا کے لئے تباہی کا موجب ہے اور ان کا اظہار کرنا ضروری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم کوئی بُری چیز دیکھو اور تم میں اس کوڈ ورکر نے کی طاقت ہو تو تم اسے ہاتھ سے دُور کر دو اور اگر تمہیں ہاتھ سے دُور کرنے کی طاقت حاصل نہیں لیکن تم زبان سے اُسے بُرا کہہ سکتے ہو تو اُسے زبان سے بُرا کہو۔پھر فرمایا اگر تم میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ تم کوئی بُری چیز دیکھ کر اسے زبان سے بُرا کہو مثلاً دوسرا حاکم ہے اور یہ غریب آدمی ہے اگر یہ زبان سے اُسے کچھ کہے گا تو وہ شاید اسے کچھ تکلیف دے اس لئے فرمایا کہ تم کم از کم دل میں بُرا مناؤ کے اب دیکھ لو خو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلاف کو جائز قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں طاقت ہے اور تمہیں اختیار حاصل ہے تو تم جو بُری چیز دیکھو سے ہاتھ سے دُور کر دو اور اگر تم میں طاقت نہیں یا تمہیں اختیار حاصل نہیں لیکن تم زبان سے اُسے بُرا کہہ سکتے ہو تو اسے زبان سے بُرا کہو اور اگر تم زبان سے بھی بُرا نہیں کہہ سکتے تو دل میں اُسے بُرا مناؤ۔