انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 607

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۷ سیر روحانی (۶) عیوب بھی منسوب کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے اُس کی صفات کی تنقیص ہوتی ہے مثلاً بائییل میں ہی لکھا ہے کہ: چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا اور تازہ دم ہوا۔۱۱۲ گویا خدا تعالیٰ چھ دن کام کرنے کی وجہ سے نَعُوذُ بِاللهِ تھک گیا اور اُسے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ آرام کرے اور تازہ دم ہو جائے ، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تصور بالکل غلط ہے اس لئے کہ وہ کوئی مادی وجود نہیں جو کام کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور تھکان اور کوفت محسوس کرے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا مَسَّنَا مِن تُغُوبِ ۱۱۳ یعنی زمین و آسمان کی پیدائش سے ہمیں کوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی پیدائش سے تھک گیا اور ساتویں دن اُس نے آرام کی احتیاج محسوس کی۔اسی طرح مسیحیت نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ کیا اور مسیح اور روح القدس کو بھی اُس کی الوہیت میں شریک قرار دے دیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہوروں سے پاک قرار دیا۔اور پھر آپ نے اس امر پر بھی زور دیا که انسان اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکتا اور اس کے قرب میں بڑھ سکتا ہے۔چنا نچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیدا کریں۔۱۱۴ اسی طرح وہ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔اے انسانو! اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تم کو اس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا ہے اگر تم میں سے کوئی شخص اس مقام کا انکار کرے گا تو اُس کا نتیجہ اُس کو بھگتنا پڑے گا لا یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر وہ خود ہی نقصان اُٹھائے گا خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اسی طرح ایک اور جگہ اس نے فرمایا ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں