انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 592

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۲ سیر روحانی (۶) علیہ وسلم ہیں تو محبت کے جوش میں اُس نے اپنا پسینہ سے بھرا ہو ا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا میرے پاس ایک غلام ہے کیا اس کا کوئی خریدار ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! میرا خریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو خدا کے حضور تمہاری بڑی قیمت ہے۔2 عورتوں کی تکلیف کا احساس ایک دفعہ آپ نے فرمایا جب میں نماز پڑھا تا ہوں تو بعض دفعہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں نماز کو لمبا کروں مگر اچانک میرے کانوں میں کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی ہے اس پر میں جلدی جلدی نماز پڑھا دیتا ہوں تا کہ اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔۹۲ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہمیں دونوں قسم کے نظارے نظر آتے ہیں۔وہ نظارے بھی جن میں آپ دشمن کے سامنے ایک ننگی تلوار کی طرح کھڑے ہو گئے اور نہ اس کی دھمکیوں سے مرعوب ہوئے نہ اس کی خوشامد سے متاثر ہوئے۔اور وہ نظارے بھی جن میں آپ نے اپنے ماننے والوں سے ایسی شفقت اور محبت کا سلوک کیا کہ کوئی ماں بھی اپنے بچوں سے اس شفقت کا اظہار نہیں کرتی۔جنگِ بدر میں صحابہ کا دشمن کیلئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متبعین میں بھی یہ دونوں اوصاف پیدا فرما پیغام موت بن کر ظاہر ہونا دیئے تھے اور وہ بھی اگر ایک طرف اشداء على الكفّار کی صفت کے حامل تھے تو دوسری طرف ماننے والوں کے لئے مجسمہ ء رحم و الفت تھے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس جنگ میں صرف ۳۱۳ آدمی مسلمانوں کی طرف سے شریک ہوئے اور وہ بھی بالکل بےسروسامان اور ناتجربہ کار تھے لیکن دشمن کا ایک ہزار سپاہی تھا اور پھر وہ سارے کا سارا تجربہ کار آدمیوں پر مشتمل تھا اور اسلحہ کی بھی بڑی بھاری مقدار ان کے پاس موجود تھی ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ ابو جہل نے ایک عرب سردار سے کہا کہ تم جاؤ اور یہ اندازہ