انوارالعلوم (جلد 22) — Page 574
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۴ سیر روحانی (۶) گورنر یمن کا اقرار کہ مدینہ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ یمن کی بندرگاہ پر ایران کا ایک جہاز لنگر انداز ہوا اور اس میں ایک کے نبی نے سچ کہا تھا شاہی ایلچی نے گور نریمن کو بادشاہ کا ایک محلے دیا۔خط اُس پر چونکہ ایک نئے بادشاہ کی مہر تھی اس لئے خط کو دیکھتے ہی گورنر یمن کہہ اُٹھا کہ مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔پھر اُس نے خط کھولا تو اُس میں کسری کے بیٹے ( شیرویہ ) نے لکھا ہوا تھا کہ میں نے اپنے باپ کو اس کے مظالم کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اور اب میں اُس کی جگہ تخت حکومت پر متمکن ہوں تم تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور یہ بھی یاد رکھو کہ میرے باپ نے عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا جو حکم بھیجا تھا اُس کو میں منسوخ کرتا ہوں کیونکہ وہ نہایت ظالمانہ حکم تھا۔گورنر یمن اس خط کو پڑھ کر اس قد رمتاثر ہوا کہ وہ اور اُس کے کئی ساتھی اُسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام میں داخل ہونے کی اطلاع بھجوا دی۔19 اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور اس کی نصرت آپ کے شامل حال رہی۔دشمن نے آپ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دفعہ اس کو اپنے منصوبوں میں نا کام رکھا۔یہود کی متواتر نا کامی مدینہ منورہ میں اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود تھے جو مخالفت کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ایک دفعہ انہی کے ایک قبیلہ بنونضیر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور پر گفتگو کرنے کے لئے بلوایا۔لیکن در پردہ سازش کی کہ ایک شخص چپکے سے چھت پر چڑھ کر ایک بڑا وزنی پتھر آپ پر گرا دے جس سے آپ ہلاک ہو جائیں اور بعد میں یہ مشہور کر دیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گیا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اِس کی خبر دیدی اور آپ وہاں سے اُٹھ کر واپس آگئے۔کے اسی طرح غزوہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا لقمہ ہی اُٹھایا تھا