انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 539

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۹ سیر روحانی (۶) ذمہ داری ہم پر ہوتی ہے اسی طرح سورہ شعراء میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا که وانذر عَشِيرَتَكَ الأقربين ۲۴ یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو اپنے قبیلہ میں سے قریبی رشتہ داروں کو جا کر ہوشیار کر۔پس ثیاب سے مراد اس جگہ وہی لوگ ہیں جو کپڑوں کی طرح ساتھ لیٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سورۃ شعراء میں اسی لفظ کو دوسرے رنگ میں ادا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے مجازاً ہونے کی تشریح کر دی اور بتا دیا کہ ہماری اس سے یہی مراد ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار قرآن پہنچا دے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر غور کرنے سے بھی انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بخاری کو نکال لو دوسری حدیثوں کو نکال لو ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلا الہام نازل ہو ا تو سب سے پہلے آپ اپنے گھر گئے اور حضرت خدیجہ کو خبر دی کیونکہ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ کا حکم تھا کہ پہلے اسلام کی تعلیم اپنی بیوی اور رشتہ داروں کو دو پھر حضرت علی کو بتایا۔چنانچہ تاریخ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی اور سب سے پہلے طہارت کو قبول کرنے والی عورتوں میں سے حضرت خدیجہ تھیں۔نابالغ جوانوں میں سے حضرت علی تھے اور بالغ جوانوں میں سے حضرت زیڈ تھے وہ بھی لوگوں میں آپ کے بیٹے کے طور پر مشہور تھے اسی طرح بڑی عمر کے لوگوں میں سے ابو بکڑ تھے جو آپ کے جانی اور جوانی کی عمر کے دوست تھے۔گویا جس طرح ثِيَابَكَ فَطَهَرُ کہا گیا تھا عملاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل اُسی طرح کیا۔لیکن کوئی حدیث نکال کر دکھا دو، ضعیف سے ضعیف نکال کر دکھا دو، منافقوں کی بیان کردہ حدیث نکال کر دکھا دو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس الہام کے بعد فوراً بازار گئے ہوں اور ریٹھے خرید نے شروع کر دیئے ہوں اور پھر کپڑوں کو ریٹھے اور صابن مل مل کر ٹوٹنے لگ گئے ہوں لیکن ہمارے پاس ثبوت موجود ہے، حدیث موجود ہے جو بتاتی ہے کہ آپ نے پہلے حضرت خدیجہ کو خدا تعالیٰ کی بات بتائی ، پھر زید کو بتائی ، پھر علی کو بتائی ، پھر ابوبکر کو بتائی غرض جس طرح آپ نے عمل کیا وہ حدیثوں میں موجود ہے۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریٹھے لے کر اور پھٹہ لے کر کپڑے گوٹنے