انوارالعلوم (جلد 22) — Page 397
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۷ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔دیکھتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو باہر لاتے ہیں اور اپنی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس طرح لوگوں کی توجہ اُن کی طرف پھرتی ہے اور وہ اپنے ارد گرد ایک جماعت اکٹھی کر لیتے ہیں لیکن اس کے برخلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا سے الگ ہو گئے تھے۔آپ غار حرا میں چلے جاتے تھے اور کئی کئی دن تک آپ وہاں عبادت کرتے تھے۔غار ثور تک تو میں جانہیں سکا میرے دل کو اُن دنوں تکلیف تھی اور غار ثور پہاڑ پر ایک سنگی جگہ واقع ہے اور اس کے نیچے کھڑ آتی ہے۔عین اُس جگہ پہنچ کر کہ جہاں سے غار ثور قریباً سو گز رہ گئی تھی میں بیٹھ گیا اور اپنے ایک ساتھی کو وہاں بھیجا کہ وہ غار دیکھ آئے۔غار حرا میں میں خود گیا ہوں اور قریباً ایک گھنٹہ تک میں نے وہاں نماز پڑھی ہے اور دُعائیں کی ہیں۔غارِ حرا استعارہ کے طور پر غار کہلاتی ہے لیکن دراصل وہ غار نہیں بلکہ حرا پہاڑی پر چڑھ جائیں تو جو رستہ معروف ہے واللہ اَعْلَمُ کہ یہی رستہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا بہر حال جو اس وقت معروف رستہ ہے اس کے ذریعہ اگر پہاڑی کی چوٹی تک چلے جائیں تو اس کی چوٹی تک کوئی غار نہیں آتی۔غار حرا میں جانے کے لئے چوٹی سے نیچے اُترنا پڑتا ہے اور چند گز نیچے جا کر ایک جگہ آتی ہے جسے غارِ حرا کہتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہاں زلزلہ آیا جس کے نتیجہ میں چوٹی سے ایک پتھر گرا جو نیچے جا کر ایک پتھر پر ٹک گیا اور ایک پہلو پر ایک اور پتھر آٹکا اس طرح وہ جگہ ایک کمرہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔یہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جس کا رقبہ سات آٹھ فٹ ہوگا کیونکہ میں نے جب وہاں نماز پڑھی ہے تو وہاں کوئی ایسی زائد جگہ نظر نہیں آتی تھی کہ دو تین آدمی وہاں بیٹھ جائیں لیکن یہ جگہ اُونچی ہے اور انسان کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر کے دوران میں اس جگہ کو دیکھا اور اسے عبادت کے لئے چن لیا۔غار اُسے کہتے ہیں جو زمین کے اندر گھسی ہوئی ہولیکن غار حر از مین کے اندر گھسی ہوئی نہیں بلکہ وہ تین چار پتھر ہیں جو ایک دوسرے کے سہارے کھڑے ہیں اور اس طرح ایک کمرہ بن گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں عبادت کیا