انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 16

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بناسکتی ہیں میرا مر چکا ہے میں آپ سے صرف یہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ کوشش کریں کہ یہ کلمہ پڑھ کر مرجائے۔مجھے اس کی زندگی کی خواہش نہیں ، اس کی صحت کی خواہش نہیں مجھے صرف اتنی خواہش ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں نہ مرے۔جس کرب و اضطراب سے اُس نے یہ باتیں کیں اس کا اثر ہوا۔خدا تعالیٰ نے اُس کی دعائنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دعا فرمائی اور سات آٹھ دن کے بعد اُس کی کا لڑکا مسلمان ہو گیا اور مسلمان ہونے کے تین چار دن بعد مر گیا۔اب دیکھو! وہ ایک جاہل عورت تھی مگر اُس کے دل میں یہ درد تھا کہ میں اپنے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے والی اولا د چھوڑوں۔اگر معاویہ کی بیوی کے دل میں بھی یہی درد ہوتا کہ میں ایسی اولا د چھوڑوں جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے والی ہو تو یزید پیدا نہ ہوتا بلکہ سعید پیدا ہوتا۔مگر اس نے اپنی ذمہ داری نہ سمجھی اور یہ چاہا کہ صرف ایک لڑکا ہو جو میرا نام قائم رکھنے والا ہو اور اُس نے سمجھا کہ گھر کے کام کے علاوہ مجھ پر اور کوئی ذمہ داری نہیں۔پس عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر دین بخش سکتی ہیں ، عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر ایمان بخش سکتی ہیں اور یہ کام اتنا بڑا ہے کہ نپولین کی فتح یا تیمور کی فتح یا ملکہ الزبتھ کی فتح یا اور بادشاہوں کی فتوحات اس کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو کر رہ جاتی ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ تم ہمیشہ کیلئے دین قائم کرو مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے جب ہمیشہ کیلئے عورت دین کو قائم کرنے کی جدو جہد نہ کرے۔اگر عورت فیصلہ کر لے کہ میں نے آئندہ ہے۔نسل کو پہلوں سے زیادہ دین دار بنانا ہے تو شیطان اس پر کس طرح قبضہ کر سکتا ہے مردوں نے شیطان کا مقابلہ کیا اور ہمیشہ ناکام رہے۔زیادہ سے زیادہ وہ صرف ایک نسل کو دین کو دین پر قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔صرف عورت ہی ہے جو شیطان کا ہمیشہ کے لیے مقابلہ کر سکتی ہے۔اگر عورتیں فیصلہ کر لیں کہ ہم نے آئندہ نسلوں کو خادمِ دین بنانا ہے تو شیطان کس کو بگاڑے گا۔آئندہ نسل پر شیطان کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ماں کا اثر ہوتا ہے۔لیکن ماں اپنی غلطی سے اُسے چھوڑ دیتی ہے اور وہ شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔پس