انوارالعلوم (جلد 22) — Page 375
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۷۵ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہیں۔خدا تعالیٰ جو سامان مہیا کر دیگا اُس کے مطابق ہم کام کرتے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ مخلصین کی جماعت اُس وقت آگے نکل آئے گی۔میں نے اس تحریک کا آغاز کرتے ہوئے ہی بتا دیا تھا کہ اس تحریک کی بنیا د روپے پر نہیں۔اس کی بنیاد قربانی پر ہے۔اُس وقت کئی لوگ ہزاروں میل پیدل یا جہاز کے ڈیک پر یاریل کا تھرڈ کا ٹکٹ لے کے باہر نکل گئے تھے۔میرے نزدیک اس سستی کی ذمہ داری صرف جماعت پر نہیں دفتر پر بھی ہے۔نو جوان دفتروں میں آگئے ہیں اور انہیں ہوئی جہاز کے سفر کے سوا کوئی بات سُوجھتی ہی نہیں۔اس کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ جو کام اس سے پہلے ایک وکیل اپنے ہاتھ سے کرتا تھا اُس کے لئے اب وہ ایک ایک دو دو کلرک مانگتا ہے۔ان چیزوں سے نقصان ہوتا ہے۔دس بارہ سال تک جب تک کام میرے سپر در ہا اگر کوئی وکیل کہتا کہ مجھے ایک آدمی کی ضرورت ہے تو میں کہتا کہ تم بھی آدمی ہو، تم خود کام کرو۔پہلے صرف دو آدمی تھے جن کے سپر د تحریک جدید کا کام تھا۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور عام کاموں کے سیکرٹری تھے اور چوہدری برکت علی خاں صاحب مال کے سیکرٹری تھے۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب آگئے اور یہ تینوں کام چلاتے رہے۔اگر چہ بعد میں انہوں نے ایک ایک دو دو کلرک لے لئے تھے لیکن کام بہت سادہ تھا لیکن اب وہی محکمہ صدر انجمن احمد یہ کو چیلنج کر رہا ہے حالانکہ صدر انجمن احمدیہ کی آمد تحریک جدید کی آمد سے پانچ گنے زیادہ ہے۔نوجوان آئے اور اُنہوں نے مرکز کی اِس روح کو بدل ڈالا۔عملہ بڑھایا جا رہا ہے پھر بھی کام میں دیر ہو جاتی ہے۔پہلے سیدھے سادھے طور پر وہ کاغذات میرے پاس لاتے تھے۔اب ہر جگہ شکایت ہے کہ کام کو لمبا کیا جاتا ہے۔کئی دفعہ خود مجھے تین تین چار چار دفعہ کا غذ بھجوانے پڑتے ہیں پھر کہیں جواب آتا ہے۔پہلی دفعہ کاغذ بھیجتا ہوں۔چند دن کے بعد وہ سمجھتے ہیں شاید میں بھول گیا ہوں گا۔آخر میں بھی انسان ہوں۔بعض دفعہ میں بھی بھول جاتا ہوں۔پھر دوبارہ کاغذ بھیجتا ہوں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کا جواب بھیجتے ہیں۔پہلے سستی ہو گئی تھی اب نہیں ہو گی لیکن وہ کا غذ بھی پاس رکھ لیتے ہیں