انوارالعلوم (جلد 22) — Page 347
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۷ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو ننانوے ہزار نو سو ننانوے یقیناً بازار کی روٹی ہی کھاتے ہیں اور اس طرح وہ اپنا بہت سا وقت بچا لیتے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اس قسم کے کھانا پکانے کے برتن (Cooke) نکالے ہوئے ہیں جن سے بہت کم وقت میں سبزی اور گوشت وغیرہ تیار ہو جاتا ہے۔پھر انہوں نے اپنی زندگیاں اس طرح ڈھال لی ہیں کہ عام طور پر وہ ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں۔یورپ میں بالعموم چار کھانے ہوتے ہیں صبح کا ناشتہ ، دو پہر کا کھانا، شام کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔عام طور پر درمیانے طبقہ کے لوگ صبح کی چائے گھر پر تیار کر لیتے ہیں۔باقی دو پہر کے کھانے اور شام کی چائے وہ ہوٹل میں کھا لیتے ہیں اور شام کا کھانا گھر پر کھاتے ہیں۔پھر سر د ملک ہونے کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا کئی کئی وقت چلا جاتا ہے اور پھر کھانے انہوں نے اس قسم کے ایجاد کر لئے ہیں جن کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔مثلاً کولڈ میٹا Cold med) ہے۔روٹی بازار سے منگوالی اور کولڈ میٹ کے ٹکڑے کاٹ کر اس سے روٹی کھالی لیکن ہمارے ہاں ہر وقت چولہا جلتا رہتا ہے۔جب تم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتی ہو تو تمہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ تم اپنی زندگی کس طرح گزارو گی۔اگر چولہے کا کام تمہارے ساتھ رہا تو پھر پڑھائی بالکل بے کار چلی جائے گی۔تمہیں غور کر کے اپنے ملک میں ایسے تغیرات پیدا کرنے پڑیں گے کہ چولہے جھو نکنے کا شغل بہت کم ہو جائے۔اگر یہ شغل جاری رہا تو پڑھائی سب خواب و خیال ہو کر رہ جائے گی۔یہی چولہا پھونکنے کا شغل اگر کم سے کم وقت میں محدود کر دیا جائے مثلاً اس کے لئے ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھنٹہ شام رکھ لیا جائے تب بھی اور کاموں کے لئے تمہارے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ تم نوکر رکھ لو گی نوکر رکھنے کا زمانہ اب جارہا ہے اب ہر شخص نو کر نہیں رکھ سکے گا بلکہ بہت بڑے بڑے لوگ ہی نو کر رکھ سکیں گے۔کیونکہ نوکروں کی تنخواہیں بڑھ رہی ہیں اور ان تنخواہوں کے ادا کرنے کی متوسط طبقہ کے لوگوں میں بھی استطاعت نہیں ہوسکتی۔جب میں یورپ میں گیا ہوں تو اُس وقت ابھی نوکروں کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھیں تب بھی ہم نے جو عورت رکھی ہوئی تھی اُسے ہم ۲۱ شلنگ ہفتہ وار یا