انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 11

انوار العلوم جلد ۲۲ 11 عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بناسکتی ہیں بہتر طور پر اپنے فرائض ادا کر سکتی ہے اُن میں حصہ لے۔مثلاً نرسنگ ہے یہ کام عورت زیادہ بہتر کر سکتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ پر تشریف لے جانے لگے تو ایک صحابیہ آئیں اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میں بھی جنگ پر جانا چاہتی ہوں۔رسول کریم می صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں عورت کیا کرے گی؟ اس نے کہايَا رَسُولَ اللهِ ! میں نرسنگ نہیں کر سکتی۔میں زخمیوں اور بیماروں کی تیمار داری اور ان کی مرہم پٹی کروں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا چلو۔کہ چونکہ عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ مردکو ہی سپاہی سمجھتے تھے اس لئے جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا تو عورت کا سوال آ گیا۔اُس زمانے میں سپاہیوں کو تنخواہیں نہیں ملتی تھیں اور انہیں اپنے کھانے پینے کے تمام اخراجات اپنی گرہ سے ادا کرنے پڑتے تھے بلکہ ہتھیار بھی وہ اپنے پاس سے خرید کر استعمال کیا تو کرتے تھے لیکن اس زمانہ میں سپاہی کو تنخواہ بھی ملتی ہے اور اسے راشن بھی دیا جاتا ہے اور پھر ہتھیار بھی گورنمنٹ مہیا کرتی ہے۔غرض اُس زمانہ میں چونکہ سارا خرچ وہ خود کرتے تھے اس لئے دشمن کی طرف سے جو مال ملتا تھا وہ بعد میں سپاہیوں میں کر دیا جاتا تھا۔چنانچہ جب اموال غنیمت تقسیم ہونے لگے تو صحابہ نے کہا يَا رَسُول اللَّهِ ! ایک عورت بھی آئی تھی کیا اُس کا بھی حصہ نکالا جائے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔تو عورت نے جو خدمت کی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تسلیم کیا اور اس کا حصہ نکالا۔سو اصل کا موں کو قائم رکھتے ہوئے جو بچوں کی پرورش اور ان کی نگرانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو زائد کام عورت کر سکتی ہو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔مثلاً تعلیم کو ہی لے لو۔حضرت عائشہ نے اس میں اتنی ترقی کر لی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ آدھا دین تم عائشہ سے سیکھ سکتے ہو۔۵ آدھے دین کے یہ معنی نہیں کی کہ ان کو نماز روزہ کے احکام کا زیادہ علم تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کے متعلق جو شریعت کے احکام ہیں وہ حضرت عائشہ کو خوب معلوم ہیں۔چنانچہ جن لوگوں کو عورتوں کے متعلق کوئی مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہوتی تو وہ تق