انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 10

انوار العلوم جلد ۲۲ 10 عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں تحریروں کا تعلق تھا ، مرد کہتے کہ ان عورتوں نے یوں کیا اور عورتیں کہتیں کہ ان مردوں نے یوں کیا۔اللہ تعالیٰ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے مرد اور عورتو ! یاد رکھو تم ایک دوسرے کے رقیب بنے ہوئے ہو حالانکہ اصل رقیب خدا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ہم نے جو طاقتیں رکھی ہیں تم اُن کا کس طرح استعمال کرتے ہو۔ہم نے یہ طاقتیں اس کی لئے رکھی ہیں تا کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور محبت اور پیار سے زندگی بسر کرو۔اگر تم آپس میں ہی لڑتے جھگڑتے رہتے ہو تو تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ تم دو نہیں بلکہ ایک تیسرا وجود بھی تمہیں دیکھ رہا ہے جو خدا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں۔جہاں دو ہوتے ہیں وہاں ایک تیسرا وجود خدا بھی ہوتا ہے۔پس یہ نہ سمجھو کہ صرف تم ہی ہو بلکہ ہم بھی ہیں۔اگر تم ہمارے قواعد کو پورا نہیں کرو گے تو ہم بھی تمہارا فیصلہ کرنے کیلئے موجود ہیں۔عورتوں اور مردوں کی ذمہ داریوں میں فرق اس آیت میں جہاں تک قوتوں کا سوال ہے، جہاں تک جذبات کا سوال ہے، جہاں تک افکار کا سوال ہے مردوں اور عورتوں کو برابر قرار دیا گیا ہے۔اور جب وہ برابر ہیں اور جب ان کی طاقتیں بھی برابر ہیں تو لازماً ان کی خدمتیں بھی برا بر ہوں گی گوان کی نوعیت بدل جائے گی۔بعض لوگ ان کہتے ہیں کہ اگر مردوں اور عورتوں کی طاقتیں برا بر ہیں تو ان کو کام بھی ایک جیبیا ہی کرنا چاہئے۔مگر یہ غلط ہے۔دنیا میں ایک کالج سے ہی تین نوجوان بی۔اے کی تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک انجینئرنگ کی طرف چلا جاتا ہے ، ایک وکیل بن جاتا ہے اور ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے۔اب جہاں تک تعلیم کا سوال ہے تینوں کو تعلیم یافتہ قرار دیا جائے گا لیکن ان کی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔اسی طرح عورت اور مرد میں ایک سے جذبات پیدا کئے گئے ہیں مگر ان کی ذمہ داری الگ الگ ہے۔عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے اور اُنہیں اچھا شہری بنائے۔اسی طرح جو فوجی کام ایسے ہیں جن میں عورت زیادہ