انوارالعلوم (جلد 22) — Page 294
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۴ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو بہت مداح تھے۔کسی شخص نے انہیں بتایا کہ یہ لوگ بہت سخت ہیں۔انہوں نے قادیان کے مرزا صاحب کی گھوڑیاں بھی پھرالی تھیں۔جس مقدمہ میں وہ چور عدالت میں پیش ہوا تھا اُس کی سزا دو سال سے سات سال تک ہو سکتی تھی لیکن ڈی سی نے مجرم کو مخاطب کر کے کہا تمہارے جُرم اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں تمہیں دو سال کی سزا دیتا ہوں اور پانچ سال مرزا صاحب کی گھوڑیاں چرانے کی سزا دیتا ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سزا بھی کم تھی۔سات سال کی قید کے بعد جب وہ چور رہا ہو کر گھر آیا تو اُس کی غیر حاضری میں اُس کی بیوی آوارہ ہو چکی تھی۔اُس نے اُسے قتل کر دیا اور خود پھانسی پر چڑھ گیا۔غرض جب کوئی شخص سچائی کے ساتھ کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اُس کا بدلہ لیتا ہے۔مغلہ جب احمدی ہوئے تو انہوں نے قومی عادت یعنی چوری کو ترک کر دیا اور جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دیا کیونکہ یہ ابتدائی مُجرم ہوتا ہے۔اُن کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مغلہ کا فر ہو گیا ہے لیکن بعد میں پتہ لگا کہ اُن کا لڑکا کا فر ہو کر سچ بولنے لگ گیا ہے اور چوری بھی اُس نے چھوڑ دی ہے۔چور چوریاں کرتے تھے اور پولیس اور دوسرے لوگ ان کا تعاقب کرتے تھے۔عدالتوں میں بات اور ہوتی ہے اور انسان وہاں جھوٹ بول کر گزارہ کر لیتا ہے لیکن برادری یا پنچائت میں یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ کوئی اپنا قصور چھپالے۔عدالتوں میں بتانے والے لوگ نہیں ہوتے اس لئے مجرم جو چاہے بیان دے دے۔لیکن برادری اور پنچایت میں وہ اگر جھوٹ بولے گا تو فوراً بعض واقف لوگ کھڑے ہو جائیں گے جو اُس کا جھوٹ ظاہر کر دیں گے۔غرض جب چور چوریاں کر کے گھروں میں واپس آتے تو تعاقب کرنے والے بھی پہنچ جاتے اور کہتے تم نے ہمارا مال چرایا ہے لیکن وہ کہتے نہیں اور اکثر قرآن کریم بھی اُٹھا لیتے۔لوگ چوٹی اٹھنی پر قسمیں کھا لیتے ہیں پھر بھینس یا گائے پر وہ قرآن کریم کیوں نہ اُٹھاتے۔تعاقب کرنے والے چوروں کی قسم پر اعتبار نہ کرتے اور کہتے لاؤ مغلے