انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 282

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۸۲ سیر روحانی (۵) اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ مجھے بھی اور آپ بارگاہ رب العزت میں پکار لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ وہ نور جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم نے پایا ہے وہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلے اور ہم اپنی زندگیوں میں اسلام کی فتح کا دن دیکھ کر اس بات پر فخر کر سکیں کہ ہم نے شیطان کی حکومت مٹا کر دنیا میں خدا اور اُس کے رسول کی حکومت قائم کر دی ہے۔اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہماری جماعت کے بیسیوں مبلغین اس وقت غیر ممالک میں کام کر رہے ہیں اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کی کامیابی کے لئے دُعائیں کی جائیں۔نہ صرف اس لئے کہ وہ اسلام کی اشاعت کا فرض ادا کر رہے ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی ملک کہلاتا ہے۔ہم سے لوگ خواہ کتنے بھی اختلاف رکھتے ہوں وہ منہ سے یہی کہتے ہیں کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله اور منہ سے یہی کہتے ہیں کہ اسلامی احکام پر ہی عمل کرنا چاہئے۔لیکن ان مبلغین کے ارد گر دوہ لوگ بستے ہیں جو لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کے قائل نہیں ساری طرف سے انہیں یہی آوازیں آتی ہیں کہ نَعُوذُ بِالله قرآن جھوٹا ہے ، اسلام جھوٹا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں پس ذہنی لحاظ سے جو اطمینان کی کیفیت آپ لوگوں کو میسر ہے وہ ان مبلغوں کو میتر نہیں۔پس اُن کا حق ہے کہ آپ لوگ انہیں اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔میں ان کی غفلتوں کا انکار نہیں کرتا لیکن اُن کی قربانیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بعض دفعہ ان کے جانے کے بعد اُن کے گھروں میں بچے پیدا ہوئے ہیں اور وہ بڑے ہو کر اپنی ماؤں سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے؟ اتنی بڑی قربانی کے بعد آپ لوگ خود ہی غور کریں کہ اُنکا ہم پر کتنا بڑا حق ہے پس چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ ہر جگہ اسلام کی اشاعت کے راستے کھولے اور انہیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے۔اس طرح ہماری جماعت کے باقی افراد کے قلوب کو بھی اِس کام کی اہمیت سمجھنے کیلئے کھول دے اور تبلیغ کے متعلق اُن کے اندر ایک نئی زندگی اور بیداری پیدا فرمائے۔اب دنیا پر ایسا وقت آچکا ہے کہ ہماری جماعت