انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page iii

حضرت مصلح موعود تمام عمر علوم ظاہری و باطنی ، اپنی ذہانت و فطانت اور اپنی خدا داد صلاحیتوں اور استعدادوں سے نہ صرف احباب جماعت کو مستفیض کرتے رہے بلکہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور فکری استعدادوں سے دوسروں نے بھی فائدہ اُٹھایا اور قو میں آپ سے برکت پاتی رہیں۔قرآن کریم کے گہرے علوم و معارف آپ کو عطا کئے گئے۔آپ نے ساری عمر خدمت قرآن میں صرف کر کے کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کیا اور یہ مرتبہ اس شان سے ظاہر ہوا کہ جماعت کے شدید معاند بھی آپ کے علم قرآن کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے اور اُنہوں نے بر ملا کہا کہ تم مرزا محمود کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے پاس قرآن ہے۔انوار العلوم کی تئیسویں جلد میں شامل تقاریر وتحریرات اہم جماعتی مواقع پر کی گئی ہیں جو کہ ہمارے لئے مشعل راہ اور تاریخ احمدیت کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔اس عرصہ کے دوران حضرت مصلح موعود نے خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے 1950ء، 1951 ء کے اجتماعات سے متعدد خطابات فرمائے اور خدام کو مختلف حوالوں سے قیمتی نصائح سے نوازا اور مجلس کے کاموں میں اُن کی راہنمائی فرمائی۔اسی عرصہ میں جماعت احمدیہ کے ۲ جلسہ ہائے سالانہ 1950ء اور 1951 ء منعقد ہوئے۔ان جلسوں کے مواقع پر حضور نے تینوں دن خطابات فرمائے اور خواتین کو بھی اپنے کلمات طیبات سے نوازا۔یہ سب خطابات اس کتاب کی زینت ہیں۔27 دسمبر 1950ء کی جلسہ سالانہ کی تقریر بہت اہم مضامین پر مشتمل ہے۔اس میں حضور نے متفرق امور کے بیان کے علاوہ جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں اُن کا بڑی تفصیل سے رڈ فرمایا ہے۔باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کا علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کے مسئلہ پر بھی حضور نے سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔اسی طرح پاکستان کے بنانے میں جماعت احمدیہ کی جو خدمات ہیں اُن کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔اس تقریر کا بہت سا مواد غیر مطبوعہ ہے جو پہلی دفعہ شائع کیا جا رہا ہے۔