انوارالعلوم (جلد 22) — Page 231
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۱ سیر روحانی (۵) دتی میں شاہی دربار منعقد ہوا تو اس کی غرض یہ تھی کہ بادشاہ بنگال کی تقسیم کی منسوخی کا اعلان کرے مگر یہ غرض کتنی چھوٹی اور کتنی حقیر تھی اور پھر کتنی عجیب بات ہے کہ وہی تقسیم جو 1911ء میں منسوخ کی گئی تھی چھتیں سال کے بعد دوبارہ ظہور میں آ گئی۔اگر اُس وقت جارج پنجم کو یہ پتہ لگ جاتا کہ چھتیں سال کے بعد بنگال کی پھر تقسیم ہو جائے گی اور اس وقت دوصوبے ہی نہیں بلکہ دو الگ الگ حکومتیں بن جائیں گی تو شاید اُسے یہ اعلان کرتے ہوئے ہنسی آ جاتی اور وہ سوچتا کہ میں کیا حماقت کر رہا ہوں۔یہاں بھی ایک قانون قرآنی آئین کا اعلان اور اس کی اہم خصوصیات پیا مانا ہوتا ہے مگر کا اعلان ہوتا ہے۔وہ قانون کس قسم کا ہے فرماتا ہے اللهُ نَزَّلَ احْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُّتَشَابِهَا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَ قُلُوبُهُمْ إِلَى ذكر الله ذلك هُدَى اللهِ يَهْدِي بِه مَنْ يَشَاءُ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَالَهُ من ها دن کے فرماتا ہے ہم ایک نیا آئین جاری کرتے ہیں (جیسے انگریز آئے تو انہوں نے تعزیرات ہند کا نفاذ کیا ہم ایک نیا گورنر جنرل قیامت تک کے لئے مقرر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دنیا کی ہدایت اور اس کی راہنمائی کے لئے ایک قانون بھی نازل کرتے ہیں مگر تمہارے قانونوں اور اس قانون میں بہت بڑا فرق ہے۔تمہارے قانون کی فرمانبرداری لوگ ڈر سے کرتے ہیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے بغاوت کی تو پولیس انہیں گرفتار کر لے گی ورنہ ان قوانین کی تائید کرنے والے بھی بعض دفعہ اپنے دلوں میں سمجھتے ہیں کہ یہ قوانین غلط ہیں اور جب انہیں اختیار ملتا ہے تو وہ ان کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمارا قانون اپنی ذات میں ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ جس سے کوئی سوچنے والا انسان انکار نہیں کرسکتا۔اَحْسَنَ الحديث نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ ہم ایک قانون جاری کر رہے ہیں مگر وہ کوئی جبری قانون نہیں وہ محض اپنی بادشاہت منوانے کے لئے نہیں بلکہ بہتر سے بہتر بات جو کہی جاسکتی ہے خواہ دینی رنگ میں یا دنیوی رنگ میں ، خواہ