انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 213

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۲۱۳ سیر روحانی (۵) نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیر روحانی (۵) تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۰ء بر موقع جلسه سالانه ربوہ ) عالم روحانی کا دیوان عام تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - سیر روحانی کے مضمون کا محرک جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ۱۹۳۸ء میں میں اپنے بعض کاموں کے سلسلہ میں سندھ گیا اور پھر وہاں سے کراچی چلا گیا میرا گلا اُن دنوں بہت خراب تھا اور ڈاکٹر بتاتے تھے کہ گلے کی خرابی کے لئے سمندر کی ہوا بہت مفید ہوتی ہے اور تجربہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے چنانچہ جب سمندر کی سیر کا موقع ملا تو اس کے بعد ایک لمبے عرصہ تک مجھے گلے کی تکلیف نہیں ہوئی اسی نقطہ نگاہ کے ماتحت میں کراچی گیا اور ارادہ کیا کہ ہم جہاز میں سوار ہو کر بمبئی جائیں اور پھر حیدر آباد دکن کی جماعت سے بھی مل آئیں کیونکہ حیدرآباد کی جماعت دیر سے یہ اصرار کرتی چلی آرہی تھی کہ کبھی موقع ملے تو میں وہاں ضرور آؤں۔چنانچہ میں کراچی سے بمبئی اور بمبئی سے حیدر آباد گیا۔اس سفر میں میں نے بہت سی چیزیں دیکھیں۔مغلیہ زمانہ کی بھی اور اس سے پہلے پٹھانوں کے زمانہ کی بھی۔اسی طرح گولکنڈہ کا قلعہ دیکھا، پھر آگرہ میں آئے تو ہم نے آگرہ کا تاج محل اور فتح پور سیکری وغیرہ دیکھا۔اس کے بعد دتی آئے اور وہاں کے تاریخی مقامات دیکھے۔اسی تسلسل میں جب ہم دلی پہنچے اور ہم نے وہاں غیاث الدین تغلق کا قلعہ دیکھا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو