انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 180

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۰ شائع کر دیا حالانکہ اُس وقت انہوں نے مان لیا تھا کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔مگر اُن کو جھوٹا ثابت کرنے کے خدا تعالیٰ نے اور سامان پیدا کر دیئے۔سر ڈکسن آگئے اور یہ ضرورت پیش آئی کہ والنٹیئر فوجیں پیچھے ہٹائی جائیں۔گورنمنٹ ایسا کرنے کا وعدہ کر چکی تھی چنانچہ فرقان فورس کو بھی ڈس بیند (DISBAND) کر دیا گیا۔وہ فوج جس کے متعلق سردار آفتاب احمد صاحب اور احراری کہتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے ایجنٹ تھے اور اُنکی وجہ سے حکومت پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔اُس کے متعلق پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف یہ اعلان کرتا ہے۔یعنی :- کشمیر کی جنگ آزادی میں لڑنے کیلئے جون ۱۹۴۸ء میں ایک والنٹیئر فوج مہیا کرنے کی تمہاری پیشکش شکریہ کے ساتھ منظور کی گئی اور فرقان فورس ظہور میں آئی۔تھوڑے ہی عرصہ کی ٹرینگ کے بعد ۱۹۳۸ ء کے موسم گرما میں تم عملی طور رمیدان جنگ میں جانے کیلئے تیار ہو گئے اور ستمبر ۱۹۴۸ء میں تمہیں مالف (MALF) کمان کے ماتحت کر دیا گیا۔تمہاری بٹالین تمام کی تمام والٹیروں پر مشتمل تھی جو ہر قسم کے پیشوں سے آئے تھے۔تم میں نو جوان کسان بھی تھے تم میں طالب علم بھی تھے ، استاد بھی تھے ، ہنر مند لوگ بھی تھے اور یہ سارے کے سارے ملکی خدمت کی روح سے بھرے ہوئے تھے۔تم نے اپنی خدمت کے بدلہ میں کوئی عوضانہ اور شہرت نہ چاہی۔تمہارا کام نہایت شریفانہ تھا۔تم سب نے اپنے اس جذ بہ سے کام سیکھا ، ہم سب کو متاثر کیا اور جس جوش کے ساتھ تم آئے تھے اُس نے بھی ہمیں بہت متاثر کیا۔ہرنئی فوج کیلئے جو مشکلات ہوتی ہیں تم نے جلد سے جلد ان پر قابو پالیا۔کشمیر میں بہت ہی اہم علاقہ تمہارے سپرد کیا گیا تھا اور تم نے بہت جلد ثابت کر دیا کہ تم پر جو اعتبار کیا گیا تھا وہ درست تھا اور تم نے