انوارالعلوم (جلد 22) — Page 164
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۴ متفرق امور - کر وہ اپنی ماہوار آمد کا پچاس فیصدی بھی دے دیں تو یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے۔ہم نے حفاظت مرکز کے لئے ایک فیصدی کے حساب سے جماعت کی جگہ کی قیمت کا اندازہ لگایا تو ۱۵ لاکھ کی رقم بن گئی تھی لیکن بعض ناہندہ اور مقروض بھی ہوتے ہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں تک میری آواز نہ پہنچے اس لئے جن کی حیثیتیں زیادہ ہیں وہ اپنے اوپر بوجھ ڈال کر اگر ایک ایک ماہ کی نصف آمد اس مد میں دے دیں تو ہمارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں جن کی ماہوار آمد ہزار ہزار روپیہ ہو اور وہ ہزار ہزار رو پید اس مد میں لکھا دیں۔چندہ نہ آنے کی وجہ سے بہت سی اہم مدات کا روپیہ اس مد میں پھنس گیا ہے اور لوگ اب وہ قرض مانگ رہے ہیں۔ایک قرضہ کا تو اتنا تقاضا ہؤا کہ میں نے کہہ دیا مکان رہن رکھ کر یہ روپیہ ادا کر دو۔آج میں نے عورتوں کو بھی توجہ دلائی ہے اور مردوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہزار روپیہ ماہوار یا اس سے زیادہ او پر آمد والے ایک ایک ہزار لکھا دیں اور جن کی آمد نہیں اس سے کم ہیں وہ پچاس فیصدی یا ۲۵ فیصدی ماہوار آمد کا دیں اور جو سو روپیہ ماہوار سے کم آمد والے ہیں وہ اپنی آمد کا ۵ فیصدی دے دیں یا پانچ پانچ دس دس روپے دے دیں تو یہ کوئی زیادہ بوجھ نہیں۔اتنا چندہ بآسانی دیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ ڈاکٹر فرزند علی صاحب نے لکھا ہے میری امانت تحریک جدید میں سے کالج کے لئے پانچ صد روپیہ لے لیا جائے اور چیک لکھ کے دے دیا ہے۔اسی طرح بابو سراجدین صاحب لاہور والے بھی اس مد میں ایک سو روپیہ کا وعدہ کرتے ہیں۔جَزَاكُمُ الله اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔اس کے بعد فرمایا ) اب میں ایک ایسے اہم معاملہ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ان دنوں بہت اہم ہو گیا ہے اور وہ ہماری مخالفت کی عام رو ہے جو مختلف جماعتوں اور فرقوں میں پیدا ہوگئی ہے۔جب ہم قادیان سے آئے اُس وقت چونکہ صرف قادیان ہی سکھوں سے مقابلہ کر رہا تھا اس لئے کیا زمیندار اور کیا دوسرے مخالف اخبار سب ہی یہ لکھ رہے تھے کہ قادیان والے خوب مقابلہ کر رہے ہیں لیکن وہی اخبار جو اُس وقت ہماری تعریفیں کر رہے۔