انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xvii

۱۲ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے خدام کو چند قیمتی ہدایات سے نوازا۔آپ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ جو چیز دل سے نکلتی ہے وہی دوسروں پر اثر کرتی ہے اور اسی چیز کا نام تبلیغ اور تعلیم وتربیت ہے “۔حضور نے جو نصائح فرمائیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔ا - وعظ و نصیحت کرنے کے لئے اپنے اندر جوش اور عزم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں چودہ دن رہ کر جو نیا جوش اور نیا عزم پیدا ہوا ہے اسے یہاں سے لے کر جاؤ اور اپنی اپنی جماعتوں میں بھی یہ جوش اور عزم پیدا کرو۔تم عمل کی طرف توجہ کرو۔تم اپنی اصلاح کرو اور دوسروں کی بھی اصلاح کرو۔یہ نہ کہو کہ سب بڑے ہیں بلکہ جس خادم کے بارہ میں شکایت ہے اُسی کا نام لکھ کر رپورٹ کرو۔اگر یہ لکھ دیتے ہو کہ سارے بُرے ہیں تو یہ لغو طریق ہے اور حدیث مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ اَهْلَكَهُمُ کے مطابق ساری قوم کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔(۱۴) اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو گزشتہ سال حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنے ایک خطاب میں عورتوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ایک کالج کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آئندہ سال اس کا ضرور اجراء ہو جائے چنانچہ ۱۴ ارجون ۱۹۵۱ء کو آپ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے اس کا افتتاح فرمایا اور ربوہ کی احمدی خواتین سے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔حضور نے اپنے اس خطاب میں نہایت احسن پیرایہ میں تاریخ کی اہمیت وافادیت مثالوں کے ساتھ بیان کر کے تاریخ کا مطالعہ کرنے کی طرف طالبات کو توجہ دلائی اور فرمایا کہ تاریخ پڑھنے سے اپنے آباء واجداد کا ، اپنے اسلاف کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا قربانیاں کیں۔وہ کیا تھے اور کیا ہم اُن کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔حضور نے