انوارالعلوم (جلد 22) — Page 84
انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۴ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر ہوسکتا اگر کسی کو مُجھ پر کوئی شکوہ ہے تو کسی جائداد کے جھگڑے کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ شکوہ مخالفوں کی ان باتوں کی وجہ سے ہے کہ میں (نعوذ باللہ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہوں اور آپ کے دین کو بگاڑتا ہوں۔یہ سب باتیں ہیں تو جھوٹی لیکن بہر حال جو شخص مجھے گالیاں دیتا ہے، مجھے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے یا مجھ پر پتھراؤ کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ اِس لئے ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنی غلط محبت کی وجہ سے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تصور کرتا ہے۔میرے لئے تو یہ امر بھی خوشی کا موجب ہے کہ لوگ میری مخالفت کی وجہ سے شورش کرتے ہیں جو انہوں نے عملاً نہیں کی یا وہ مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو عملاً انھوں نے نہیں کیا۔اگر وہ عملاً بھی ایسا کرتے تب بھی میں خوش ہوتا کہ ان کے اندر میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو ہے۔آخر میں بھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اتباع میں سے ہوں آپ کو شعر کی صورت میں ایک الہام ہوا۔اُس کے الفاظ میں پہلے سُنا دیتا ہوں اور پھر اُس کا ترجمہ کروں گا۔اُس وقت لوگ بڑی مخالفت کرتے تھے۔میں ابھی بچہ ہی تھا لا ہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دعوت سے واپس تشریف لا رہے تھے آپ جب بازار میں سے گزر رہے تھے تو لوگ چھتوں پر کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔اسی اثناء میں میں نے ایک بڑھے کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ کٹا ہو ا تھا اور اُس پر تازہ تازہ ہلدی لگی ہوئی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ہاتھ کٹے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔میں نے دیکھا کہ وہ بڑھا اپنا تندرست ہاتھ کٹے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہہ رہا تھا مرزا ئٹھ گیا مرزا ئٹھ گیا۔میں حیران تھا کہ آخر یہ کیوں کہتا ہے مرزا ئٹھ گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ لا ہور شہر میں جارہے تھے اور پیچھے سے کسی نے حملہ کیا اور آپ گر گئے۔اسی طرح لوگوں کو پتھراؤ کرتے بھی ہم نے دیکھا۔غرض اُن دنوں مخالفت بڑی زوروں پر تھی اور قدرتی طور پر جماعت کے بعض دوستوں کو بھی غصہ آ جاتا تھا کہ آخر یہ لوگ بلا وجہ ایسا کیوں کرتے ہیں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا