انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page ix

م (۵) مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع ۱۹۵۰ ء کے آخری اجلاس میں بعض اہم ہدایات سید نا حضرت مصلح موعود نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع ۱۹۵۰ء کے اختتامی اجلاس منعقدہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۰ء میں خدام الاحمدیہ سے خطاب فرمایا۔حضور نے خدام میں انعامات کی تقسیم کے بعد فرمایا کہ جب کسی نو جوان کو انعام دیا جاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسرے نوجوانوں کے دلوں میں بھی ویسے کام کرنے کی تحریک پیدا ہو اس لئے انعام لیتا ہو ا دیکھ کر بَارَكَ الله لَكَ فِيهِ کہا جاتا ہے اور انعام لینے والے کو دعا دی جاتی ہے اور انعام لینے والا انعام دینے والے اور دوسرے حاضرین کے اس دعائیہ کلمات پر جَزَاكُمُ اللہ کہتا ہے۔حضور نے مزید فرمایا کہ جو کچھ یہاں سیکھا ہے واپس جا کر میٹنگز منعقد کر کے اجلاسات منعقد کر کے نمائندے دوسروں تک یہ باتیں پہنچا ئیں۔اور جو عہد سچ بولنے کا کل میں نے لیا تھا وہ عہد بھی لیں اور تمام خدام أى والله بلند آواز سے کہنے کی مشق کریں کیونکہ یہ الفاظ عہد نبھانے پر دلالت کرتے ہیں۔حضور نے خدام کو تیرا کی اور دیگر پیشے اور ہنر سیکھنے کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہندو کے یہاں سے چلے جانے کے بعد تعلیمی ڈگریوں کی بھی گنجائش ہے اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو لازماً تعلیم کے ساتھ کرنی ہے۔یہ تعلیمی ڈگریاں کچھ عرصہ تک تو اس خلاء کو پُر کرسکتی ہیں لیکن ہنر اور پیشے اپنانے سے روزگار میں ترقی ہوگی۔حضور نے آخر میں خدام کو اپنا منہ صاف رکھنے کی بھی نصیحت فرمائی اور فرمایا یہ سوشل تعلقات کے لئے ضروری ہے۔