انوارالعلوم (جلد 22) — Page 54
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع۔۔۔میں بعض اہم ہدایات انہیں کیا کہنا چاہئے ان میں سے بھی بعض نے بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيْهِ کہہ دیا حالانکہ انعام دینے والا کہتا ہے بَارَكَ اللهُ لَكَ فِیهِ خدا تجھے برکت دے اور اس انعام کو تیرے لئے فائدہ مند بنائے اور یہ انعام تیری آئندہ ترقیات کا پیش خیمہ ہو۔اور انعام لینے والا کہتا ہے جَزَاكُمُ الله کیونکہ انعام دینے والے نے اس کو انعام بھی دیا اور دعا بھی دی۔پس یہ اُس کے شکریہ میں دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس نیکی کی جزا عطا فرمائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے شریعت نے یہ سکھایا ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو فارغ ہونے پر کہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ۔اب یہ عقل کے بالکل خلاف بات ہو گی اگر کھانا کھلانے والا الْحَمْدُ لِلهِ کہے اور کھانے والا خاموش رہے۔پس انعام دینے والے کے لئے مناسب فقرہ یہ ہے کہ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِ اور انعام لینے والے کے لئے مناسب رہ یہ ہے کہ جَزَاكُمُ الله یعنی جنہوں نے انعام دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کو قبول کرے اور اُنہیں اس کا نیک بدلہ دے۔پس آئندہ کے لئے یا درکھو کہ جب انعام دینے والا بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِ کہے تو دوسرے بھی یہی فقرہ زور سے کہیں تا انعام لینے والے کو محسوس ہو کہ سب نے اس کے کام کو پسند کیا ہے اور وہ بھی اس کی خوشی میں شریک ہیں اور لینے والا جَزَاكُمُ الله کہے تا اس کے دل میں شکر گزاری کا مادہ پیدا ہو۔اب میں آپ لوگوں کو چند فقرات کہنے کے بعد دعا کے ساتھ رخصت کرتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے یہاں سے جو کچھ سیکھا ہے اسے یاد رکھئے اور دوسروں تک پہنچائیے۔جو جو نمائندے یہاں آئے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ واپس جا کر اپنی اپنی مجالس کا اجلاس کریں اور ان کے سامنے وہ ساری کیفیت بیان کریں جو انہوں نے دیکھی ہے اور ان باتوں کا خلاصہ بیان کریں جو میں نے کہی ہیں اور ان فیصلوں کا ذکر کریں جو آپ لوگوں کے مشورہ کے بعد میں نے کئے ہیں اور انہیں یہ تحریک کریں کہ وہ ان تمام باتوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔اسی طرح جو عہد میں نے کل لیا تھا یا آج لیا ہے وہ عہد تمام خدام سے میٹنگ کر کے لیں اور انہیں سکھائیں کہ جب عہد لیا جائے توائی زور سے کہیں اور والله نسبتا آہستہ آواز میں کہا جائے۔